75

پھل اور سبزیاں… سرطان سے تحفظ کے قدرتی ذرائع

تحریر: عائشہ ایوب
ماہر غذائیت’ڈیپارٹمنٹ آف نیوٹریشنل سائنسز جی سی یونیورسٹی فیصل آباد
سائنس کی روز افزوں ترقی کے ساتھ عالم انسانیت کو نئی مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے۔ جیسا کہ روزمرہ غذائوں میں فطرت اور جسم کی ضروریات کے برعکس تبدیلی کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ مزیدبرآں ماحولیاتی آلودگی’ تمباکونوشی’ منشیات کا استعمال جبکہ نوجوانوں میں گٹکے سمیت شیشے کا استعمال بطور فیشن عام ہو رہا ہے، ان تمام عوامل نے مل کر ہمیں ایک ایسے موذی مرض جسے سرطان یعنی کینسر کہتے ہیں، میں مبتلا کر دیا ہے سرطانی خلیات انسان کے جسم میں موجود ہوتے ہیں اور مضر عوامل کی تحریک ہے کسی بھی وقت متحرک ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک جان لیوا مرض ہے اور اس کے علاج پر ہونے والے مالی اخراجات معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تو اس سے تحفظ کے لیے قدرتی غذائوں مثلاً پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کیا جائے کیونکہ ان قدرتی غذائوں میں موجود کیمیائی اجزائ’ وٹامن اور فائبر جسم کے میٹابولزم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چند ایسی سبزیاں اور پھل جو سرطانی خلیات کی افزائش کو روکنے میں مدد دیتے ہیں ان کے استعمال سے اس مرض سے تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
گاجر: گاجر کثرت اور آسانی سے دستیاب ہونیو الی غذا ہے اس کو کچی اور پکی دونوں صورتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے گاجر میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، بیٹا کیروٹین کئی اعضاء مثلاً پھیپھڑوں’ معدے اور مثانے کے کینسر سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ گاجروں میں ایک اور جزو بھی پایا جاتا ہے جو سرطانی خلیات کی نمو کو روک دیتا ہے۔
گاجروں میں کیزوٹین کے علاوہ پوٹاشیم،کیلشیم،وٹامن اورآئرن بھی مناسب مقدار میں پائے جاتے ہیں
گوبھی،کروسیفیری خاردان سے تعلق رکھنے والی سبزیاں مثلاً گوبھی، پھول گوبھی اور اس سے مشابہ سبزیاں مثلاً تروکولی میں بھی سرطان سے بچانے والے اجزاء پاتے جاتے ہیں ان میں 3-Carblnol،اسٹروجن کو بے عمل کرکے بریسٹ کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ایک اورکیمیائی جزجوکہ Sulforapoore آزاد ریڈنکل اوردوسرے سرطانی اجزاء تحلیل کرکے سرطان(کینسر)سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سرخ انگور،سرخ انگور میں سے نباتاتی اجزاء پائے جاتے ہیں جوسرطان سے تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ ان میں موجود دومرکباب Ellagic Acid اور Resvoratral میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ یہ ان خامروں کی بندش کرتے ہیں جوسرطانی خلیات کی نشوونما میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔
السی کے بیج،ومیگاتھری فیٹی ایسڈ کے حصول کا عمدہ ذریعہ ہے اوران میں Lignan کی بھی وافرمقدار پائی جاتی ہے لگنن نباتاتی ایسٹروجن کی ایک قسم ہے یہ ایسٹروجن کے مشابہ عمل کرتے ہوئے ایسٹروجن کے میٹابولزم میں مداخلت کرتے ہیں جس سے بریسٹ کینسر سے تحفظ فراہم ہوتا ہے۔
لہسن،لہسن بھی سرطانی خلیات کی نموپراثرانداز ہوتا ہے اس میں موجود مرکب Allicirمدافعتی خلیات کوتحریک دینے کے علاوہ معدے اور مقعد کے کینسر کے امکانات کو کم کرتا ہے۔
دہی: دہی میں موجود فائدہ مند جراثیم پروبائیوٹک کے طور پر کام کرتے ہیں۔ دہی کے استعمال سے اینٹی کینسر اجزاء جسم میں بڑھتے ہیں، ان میں انٹرفیرون اور نیچرل کلر سیل کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔
سبز چائے: سبزچائے میں پولی فینول Flavonoids اور ایک اور اہم ضد تکسیدی جزو Epigallo catechin-3-Gallate پایا جاتا ہے جو سرطان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود Catechin مثانے، کولون، معدے اور لبلبے کے سرطان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
ان قدرتی غذائوں (پھلوں اور سبزیوں) کے مناسب استعمال سے سرطان (کینسر) کے صحت پر برے اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں