76

”روزے کی فرضیت”

تحریر: ڈاکٹر محمد سعید طاہر
اسلام کی عمارت عقائد کے پانچ ستونوں پر قائم ھے
1۔ توحید 2 ۔ نماز 3 ۔ روزہ 4 زکوة 5 ۔ حج
ان میں روزہ تیسرے نمبر پر ھے جبکہ مسلمانوں پر چار عبادات ایسی ہیں جو شرائط کے مکمل ہونے پر فرض ہیں۔ 1 ۔ نماز 2 ۔ روزہ 3 ۔حج 4 ۔ زکوة۔۔ ان عبادات میں روزہ دوسرے نمبر پر ھے۔ سورہ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ھے ۔ ” اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ھے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔” اس آیت میں جس میں روزے کی فرضیت کا اعلان ھے اس میں خطاب ” اے ایمان والو” کہہ کر کیا گیا ھے اس سے کلام الہی کا منشا صاف ظاہر ہوتا ھے کہ یہ صرف مسلمان سے ھے اور ان پر ہی روزے فرض ھوتے ہیں غیر مسلموں پر ان کا اطلاق نہیں ھو رھا۔ قرآن کریم چونکہ اللہ کریم کی آخری آسمانی کتاب ھے اس میں پچھلی تمام کتابوں کا خلاصہ اور شرائع جمع کر دئے گئے ھیں اس لئے تمام کائنات کو اب اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ روزے کی فرضیت کے بعد فرمایا گیا ۔ ” ( روزے) جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے” اس سیاق و سباق سے ظاہر ہوتا ھے کہ روزے اس سے قبل بھی اقوام پر فرض کئے گئے ہیں ۔ خواہ وہ کسی بھی شکل میں رھے ھوں ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ( Fasting ) روزے کے عنوان پر چند مذہبی اور تاریخی دلچسپ حوالے لکھے گئے ہیں تاریخ میں بہ مشکل کسی ایک مذہب کا نام بھی نہیں ملتا جس کے مذہبی نظامِ میں روزے سے متعلق حقائق نہ بیان کئے گئے ھوں۔ ہر مذہب میں روزہ تسلیم کیا گیا ھے خواہ وہ رسم کی حیثیت سے کیوں نہ ھو۔ یہودیوں کی کتاب ”خروج” میں لکھا ھے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے کوہ طور پر چالیس دن بھوکے پیاسے گزارے۔ چنانچہ ان کی پیروی میں یہود چالیس دن روزہ رکھنا اچھے سمجھتے ہیں۔ اس کے علاہ یہودیوں نے مختلف اوقات کی یاد میں بہت سے روزے بڑھا لئے تھے جس میں زیادہ تر غم کے روزے تھے اور غم کو ظاہر کرنے کے لئے اپنی ظاہری صورت کو بھی اداس اور غمگین بنا لیتے تھے ۔ حضرت یحییٰ اور ان کی ملت روزہ دار تھی۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ھوئے تو آپ نے شریعت موسیٰ کے مطابق روزے رکھے مگر جو روزے یہودیوں نے از خود بڑھا لیے تھے انھیں منسوخ کر دیا۔ اہل حجاز بھی قبل از اسلام روزہ کی روح سے واقف تھے مکہ کے قریش ایام جاہلیت میں عاشورہ یعنی دس محرم کو اس لیے روزہ رکھتے کہ اس دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف چڑھایا جاتا ھے اسی طرح یثرب یعنی مدینہ میں بھی اہل یہود اپنا الگ عاشورہ مناتے یعنی ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھتے تھے ۔ قدیم مصریوں میں بھی روزہ تہوار کی شکل میں شامل رھا ھے ۔ پارسی مذہب میں روزے کا ثبوت ملتا ھے اگرچہ یہ عام لوگوں پر فرض نہیں ھے مگر ان کے مذہبی پیشوا سال کے پانچ روزے رکھتے ہیں جو ان کی مذہبی کتاب سے ثابت ہیں ہندوستان قدامت کا سب سے بڑا دعوی دار ھے مگر روزے ( برکت) سے وہ بھی آزاد نہیں ۔ ہر ہندی مہینے کی گیارہ اور بارہ تاریخ کو برہمن پراکاوشی کا روزہ ھے اس حساب سے وہ سال میں چوبیس روزے رکھتے ہیں بعض برہمن کاتک کے مہینے میں بھی چار روزے رکھتے ہیں ۔ ہندوستان کے مذہب میں جینی دھرم میں روزے کی سخت شرائط ہیں ان کا چالیس دن کا ایک برت ھوتا ھے گجرات و دکن میں جینی کئی کئی ہفتوں کا برت رکھتے ہیں اسی طرح ہندو جوگی چلہ کشی کے دوران چالیس دن کا برت رکھتے ہیں ۔ روزے کا سب سے بڑا مقصد دنیاوی زندگی میں تقویٰ کا حصول ھے روزے سے متعلق جس آیت کریمہ کا حوالہ دیا گیا ھے اس میں ایمان والوں سے خطاب کے دوران تین باتوں کی جانب نشاندہی کی گئی ھے 1۔ مسلمانوں پر روزے کی فرضیت ۔ 2 ۔ امم سابقہ پر بھی روزے فرض تھے ۔ 3۔ روزے کو حصول تقویٰ کا ذریعہ بتایا گیا۔ چنانچہ رمضان المبارک کے مہینے میں روزے کو عبادات میں فرض قرار دے کر مسلمانوں میں تقوی کی روح پھونکی جا رہی ھے جس سے دیگر مذاھب عالم عاری ہیں ۔
تقویٰ کیا ھے! اسے سمجھنے کے لیے کئی اوراق درکار ھوں گے کیونکہ یہ ایک مستقل عنوان ھے جس کا ذکر قرآن مجید میں جابجا پھیلا ھوا ھے اس کے مفہوم و مطالب کو سمجھنے کے لیے ایک آیت کریمہ سے استفادہ ضروری معلوم ھوتا ھے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ھے ” اللہ کی مساجد کی رونق و آبادی تو ان کے حصہ میں ھے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ھوں نماز کی پابندی کرتے ہوئے زکوة دیتے ھوں اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ھوں توقع ھے کہ یہی لوگ ھدایت یافتہ ہیں۔ “( سورہ التوبہ ۔ 18).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ھے کہ “جب تم دیکھو کہ ایک آدمی پابندی سے مسجد آتا ھے تو تم اس آدمی کے ایمان کی گواہی دو۔”
حضرت عمر فاروق رضہ اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا ۔ تقویٰ کیا ھے؟ آپ رضہ اللہ عنہ نے جواب دیا ۔ “اگر آپ کسی خاردار کھاٹی سے گزر رھے ھوں تو ایسے گزریں ۔ “آپ رضہ اللہ عنہ نے عملی طور پر دونوں ہاتھوں سے اپنی قمیض کے دامن کو سمیٹتے ھوئے رانوں کی جانب کیا اور فرمایا۔ “ایسے گزرنا چاہیے تاکہ کانٹوں میں الجھ کر دامن تار تار نہ ھو جائے۔ “روزہ بھی گناہوں سے انسان کو اسی طرح محفوظ و مامون رکھتا ھے۔ دعا ھے کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے ہمیں روزے کی فرضیت سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں