86

میرا کیا قصور تھا…

تحریر: میاں صغیر سانول
فیصل آباد پولیس کی مجرمانہ غفلت۔ لاپرواہی اور عدم توجہ کے نتیجے میں غریب محنت کش کا نوجوان لخت جگر زندگی کی بازی ہار گیا۔ ایس پی اقبال ٹان عثمان منیر سیفی کی عدم توجہ کے نتیجے میں اقبال ڈویژن تو پہلے ہی سنگین جرائم کا گڑھ بنا ہوا ہے ایسے میں پتنگ و ڈور فروخت کرنے والوں اور پتنگ سازوں کو بھی کھلی چھوٹ دی گئی ہے جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں۔ حالیہ واقع میں سمن آباد برف والا چوک کے رہائشی محمد شفیق کا روزہ دار لخت جگر 22 سالہ محمد آصف جمعتہ المبارک 22 مارچ کی شام کو ناولٹی پل سے گئو شالہ موڑ کی جانب جارہا تھا کی اس دوران ٹی چوک کے قریب کٹی پتنگ کے ساتھ گزرنے والی خطرناک دھاتی قاتل ڈور نے اس کا گلا کاٹ دیا۔واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی واضع نظر آرہا ہے کہ محمد آصف کے گلے پر اچانک تیز دھار ڈور پھرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ موٹر سائیکل سے گر جاتا ہے اور بعد میں اٹھ کر کھڑا بھی ہوتا ہے لیکن گلا مکمل کٹنے کی وجہ سے دوبارہ گرجاتا ہے اور تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتا ہے۔۔۔ المناک واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس حکام کی وہی روایتی ہنگامی ڈرامائی کاروائیاں شروع ہوتی ہیں آئی جی پنجاب نوٹس لیتے ہیں سی پی او محمد علی ضیا کی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشنز حسن جاوید بھٹی موقع پر پہنچتے ہیں ایس ایچ او فیکٹری ایریا ثاقب ریاض مہیس کو معطل کرکے ورثا کو مطمئن کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں..۔
آخر کب تک ۔۔۔؟
جناب سی پی او صاحب آخر کب تک یہ معطلی اور رسمی کاروائیوں کا کھیل کھیلا جائے گا۔۔۔ یہی شہر ہے آپکی یہی سیٹ ہے اور یہی تھانے ہیں۔۔ ہر دو چار ماہ بعد ایک آصف نشانہ بنتا ہے پھر ایک نوٹس ہوتا ہے ایس ایچ او معطل ہوتا ہے اور بات ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔
آپ محافظ ہیں خدارا ہمیں تحفظ فراہم کریں ۔۔ آپ محافظ ہیں ہمیں محفوظ بنائیں۔ ہم روز ایک آصف کی قربانی نہی دے سکتے ہم روز نہیں لٹ سکتے۔ آپ سے پہلے بھی بہت سربراہ آئے تھے آپ کے بعد بھی بہت سے آئیں گے۔دفتر میں لگے بورڈ پر لکھے نام کو سنہری حروف کی شکل دینی ہے یا محض سیریل میں نام ہی شامل رکھنا ہے اب یہ آپ کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ سر عوامی رائے ہے کہ آپ اس معاملہ میں سید علی رضوی بن جائیں اور ماتحت پولیس کی نیندیں حرام کردیں رزلٹ سب کے سامنے ہوگا۔ پھر آپ سہیل چوہدری بھی بن جائیں اور کریمینلز کو کیفر کردار تک پہنچانا شروع کردیں آپ اپنی کارکردگی کا عملی نمونہ پیش کریں یقین جانیئے یہ تنقید کرنے والے ہی آپ پر پھول نچھاور کریں گے نہیں یقین تو اس شہر کے سابقہ کپتانوں کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیجئے۔ ایسے سنگین واقعات سابقہ ادوار میں بھی ہوتے آئے ہیں لیکن قانون کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے انجام کے بھی ہم شاہد ہیں جناب آپ کی موجودگی میں ہفتہ وار بسنت ہورہی ہے ہر جمعہ منایا جاتا ہے۔سر چند لاکھ پتنگیں اور ہزاروں ڈور کی چرخیاں پکڑنے سے گزارہ نہیں ہونا۔ جھنگ روڈ ٹرک اسٹینڈ سمیت ٹرانسپورٹ اڈہ جات پر اترنے والے خام مال کی ترسیل اور پھر تیار مال کی محفوظ منتقلی پر قابو پانا ہو گا۔ پتنگ و ڈور سازی کے مکروہ دھندے پکڑ کر مشینری کو تباہ و برباد کرنا ہو گا۔ اگر اس جرم کی سزا نہ ہونے کے برابر ہے تو پھر ریکارڈ یافتہ افراد کو دیگر سنگین جرائم میں نامزد کرکے سزا دلوانے کا فیصل آباد پولیس کا پرانا فارمولا ہے یہ فارمولا پولیس زیادہ تر ڈاکوں اور منشیات فروشوں پر لگاتی ہے اس بار ریکارڈ یافتہ ڈور سازوں پر یہ فارمولا لگاکر دیکھیئے ان کو شفا ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں