191

فضائل ومسائل رمضان المبارک

تحریر: صاحبزادہ پیر قاضی
محمد فیض رسول حیدر رضوی
سجادہ نشین آستانہ عالیہ محدث اعظم پاکستان
اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ پرہیز گاربن جائو(سورة بقرہ آیت نمبر 183) روزہ کا لغوی معنی ہے کسی چیز سے رکنا اور اس کو ترک کرنا روزہ کا شرعی معنی ہے۔ مکلف اور بالغ شخص کا ثواب کی نیت سے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اورجماع کو ترک کرنا اور اپنے نفس کو تقویٰ کے لئے تیار کرنا علامہ علاء الدین حصکفی رضی اللہ عنہ نے لکھا ہے کہ ہجرت کے ڈیڑھ سال اور تحویل قبلہ کے بعد دس شوال المکرم کو روزہ فرض کیا گیا ۔ سب سے پہلے نما ز فرض کی گئی ۔ پھر زکوة فرض کی گئی اس کے بعد روزہ فرض کیا گیا کیونکہ اس احکام میں سے سب سے سہل اور آسان نماز ہے ۔ اس لئے اس کو پہلے فرض کیا گیا پھر اس سے زیادہ مشکل اور دشوار زکوٰة ہے ۔ کیونکہ مال کو اپنی ملکیت سے نکالناانسان پر بہت شاق اور مشکل ہوتا ہے پھر اس کے بعد اس سے زیادہ مشکل عبادت روزہ ہے ۔ کیونکہ روزہ میں نفس کو کھانے پینے اور عمل ترویج سے روکا جاتاہے اوریہ انسان کے نفس پر بہت زیادہ شاق اور دشوار ہے رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہے۔ اس کو شفاء سمجھنا اوراس کو خوش بختی سمجھنا اور دل کی خوشی سے روزہ رکھنا اور نماز پنجگانہ کیساتھ ساتھ نماز تراویح ادا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ حضرت سہیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے اس دروازہ سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہونگے ۔ ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا کہا جائے گاکہ روزہ دارکہاں ہیں ؟ پھر روزہ دار کھڑے ہوجائیں گے ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا ان کے داخل ہونے کے بعد اس دروازہ کو بند کر دیا جائے گا پھر اس میں کوئی داخل نہیں ہوسکے گا۔(صحیح بخاری جلد اول 254 )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖنے فرمایا : جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے لیلتہ القدرمیں قیام کیا ۔ اس کے پہلے (صغیرہ ) گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے روزہ رکھا اس کے پچھلے (صغیرہ ) گناہ بخش دیئے جائیں گے (صحیح بخاری جلد اول 254)روزے کی اہمیت اورافادیت کو وہی شخص محسوس کرسکتا ہے جو ایمان کے ساتھ صدق دل سے روزہ رکھتا ہے ۔
جسم کو کوئی خوراک اتنی طاقت نہیں دے سکتی جتنی طاقت روزہ دیتا ہے جسم میں شاندار طاقت بھی آتی ہے اور روح کو تازگی بھی ملتی ہے ۔ اور روزہ رکھنے کی برکت سے روح جو ان بھی رہتی ہے جسم جتنا بھی بوڑھا ہو جائے صرف فرضی روزوں کی کوشش ہی نہیں کرنی چاہیے ۔ فرائض روزوں کی ادائیگی کے بعد نوافل روزوں کی برکات بھی یہی ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتاہے روزے کے سواابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہوتا ہے ۔ روزے میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کوئی شخص روزہ سے ہو تو وہ نہ جماع کی باتیں کرے نہ شوروشعب کرے اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو رب تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی افطار کے وقت ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی ۔ اس وقت وہ اپنے روزہ سے خوش ہوگا (صحیح بخاری شریف جلد اول 255 )حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرما یا روزہ ڈھال ہے روزہ دار نہ جماع کرے نہ جہالت کی باتیں کرے ۔ اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اس کی گالی دے تو وہ دو مرتبہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ اپنے کھانے پینے اور نفس کی خواہش کو میری وجہ سے تر ک کرتا ہے روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا ۔ اور باقی نیکیوں کا اجر دس گنا ہے ۔ (صحیح بخاری شریف جلد نمبر254 )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرما یا جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے لیلتہ القدر میں قیام کیا ۔ اس کے پہلے ( صغیر ہ ) گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے روزہ رکھا ۔ اس کے پچھلے (صغیرہ ) گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (صحیح بخاری ) حضرت عمرہ بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی پاک ۖ سے سوال کیا ۔ یا رسول اللہ ! یہ بتائیں اگر میں اللہ کے وحدہ لاشریک لا ہو نے اور آپ کے رسول برحق ہونے کی گواہی دوں اور پانچوں نمازیں پڑھوں اور زکوٰة ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور قیام کروں تو میراکن لوگوں میں شمار ہوگا ؟آپ ۖنے فرما یا صدیقین اور شہداء میں ( مسند بزارصحیح ابن حبان الترغیب والتربیب جلد نمبر2 صفحہ 106 ) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرور کونینۖ نے ارشاد فرمایا’ بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کی طرف وحی فرمائی کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو خبر دیجئے کہ جو بھی بندہ میری رضا کے لئے ایک روزہ رکھتا ہے تو میں اس کے جسم کو صحت بھی عطا فرماتا ہوں اور اس کو عظیم اجر بھی دوں گا ۔ (شعب الا یمان جلد نمبر3 صفحہ 412 )اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو رمضان المبارک کی برکتیں عطا فرمائے آمین۔
باقی رہا رمضان المبارک میں صدقات وخیرات کا نظام ویسے تو زکوٰة ضروریات اصلیہ سے زائد مال پر سال گزرنے کی صورت میں واجب ہوتی ہے لیکن لوگ رمضان المبارک کو ثواب کی زیادتی کی وجہ سے ادائیگی زکوٰة کیلئے ترجیح دیتے ہیں ۔ زکوٰة اڑھائی فیصد ہے ۔ اس سال فطرانہ مرکز اہل سنت آستانہ عالیہ محدث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ جھنگ بازار فیصل آبادکی طرف سے کم ازکم تین سو روپے فی کس مقرر کیا گیا ہے اگر (جو) کے حساب دیں تو700 روپے کھجور کے حساب سے 2100 اور کشمکش کے حساب سے 3200 روپے فی کس بنتا ہے ۔ اور تیس روزوں کا فدیہ کم از کم 9000 روپے ہے ۔ باقی رہے ان صدقات وخیرات کے مصارف فقراء ومساکین وعاملیں ومسافر اور مجاہد ومقروض یہ سب ان صدقات کے مصارف ہیں ۔ عملی طور پر لوگ زکوٰ ة وفطرانہ وکھالیں ان لوگوں کو دے دیتے ہیں جو بازاروں اور ہسپتالوں میں کھانے کھلاتے ہیں اور تصاویر دکھادیتے ہیں جبکہ یہ صدقات واجبہ کے مستحق صرف اور صرف مسلمان فقراء ومساکین ہیں اگر ان تک یہ نہ پہنچا تو ادا ہی نہ ہوا ۔ یہ دینے والے کے ذمہ باقی رہا جب ان لوگوں نے صرف تصویر کشی کو ادائیگی سمجھ لیا ہے وہاں پر ہر طرح کے مسلم وغیر مسلم لوگ کھاتے ہیں صدقات نافلہ میں آپ اپنی مرضی کرسکتے ہیں لیکن صدقات واجبہ کا معرف صرف اور صرف مدارس اہل سنت وجماعت ہیں جہاں صحیح معنوں میں دین کی ترویج واساعت کاکام ہوتا ہے اوروہاں مستحق لوگ پڑھتے ہیں وہاں کے لنگر خانوں کی تصویریں میڈیا پر نہیں چڑھائی جاتیں ۔ لیکن اصل کا م ہوتا ہے طلباء واساتذہ کو بہترین لنگر کھلایا جاتا ہے اور باقی کتب وہاسٹل کے علاوہ دینی اور دنیاوی تعلیم کا بہترین نظام تربیت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ لہٰذا مخیر حضرات کو اپنے دینی مدارس کی طرف توجہ کرنی چاہیے ۔ باقی خیراتی اداروں کے چکر میں اپنے فریضہ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ سب کے روزے اور صدقہ وخیرات کو قبول فرمائے اور ہمیں حقائق کو سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں