56

ملک میں مہنگائی کا طوفان… وزیراعظم اپنے افسران پر مہربان

وطن عزیز میں اس وقت غربت’ مہنگائی اور بیروزگاری نے لوگوں کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں، اگرچہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں آئے ابھی صرف چند ہفتے ہوئے ہیں اور اس دوران ان کی کارکردگی کو جواز بنا کر تنقید کرنیکی بجائے دیکھنا چاہئے کہ وہ آنے والے دنوں میں کیا کرتے ہیں مگر جب حکمران حیران کن اقدامات اٹھائیں ہر ذی شعور سوچنے اور بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے، ذرا سوچئے! یہ اقدام کس قدر غیر متوقع ہے کہ ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے آئی ایم ایف سے نئے بیل آئوٹ پیکج کی درخواست کیلئے واشنگٹن روانگی سے چند روز قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم آفس کے افسروں کو چار تنخواہیں دینے کی منظوری دیدی ہے، موجودہ حالات سادگی اور کفایت شعاری کو فروغ دینے کے متقاضی ہیں، ملک پر قرضوں کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا کہ اب قرض ادائیگی کی اقساط ادا کرنا مشکل نظر آنے لگا، ان حالات میں وزیراعظم آفس کے افسران کیلئے چار اضافی تنخواہوں کی منظوری حیران کن ہے، یہ فیصلہ مہنگائی کے ستائے لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، جو مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ان افسروں کے لیے یہ اعزازیہ اضافی کام کرنے پر منظور کیا گیا ہے، تاہم یہ باتیں بھی سننے میں آ رہی ہیں کہ ان افسران کی جانب سے کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا گیا جس کے باعث انہیں کسی انعام کا حقدار قرار دیا جا سکے، حکمران طبقے نے شاید غریب کی کٹیا کا حال نہیں دیکھا کہ ان بے چاروں پر فاقوں کی صورت میں کیا گزرتی ہے ورنہ وہ غریب لوگوں کے لیے بھی کچھ کرتے، ملک میں اس وقت مہنگائی اور گرانفروشی خوفناک شکل اختیار کر چکی ہیں، ملک کے دیگر علاقوں کی طرح فیصل آباد میں بھی مہنگائی اور گرانفروشی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی نصف سے زائد گزر چکا اور عید کی آمد آمد ہے، ایسے مواقع پر دنیا بھر میں مہنگائی کم ہو جاتی ہے اور اشیائے ضروریہ سستی کر دی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے اور یہاں اہم تہواروں پر گرانفروشی کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے، اور ستم بالائے ستم یہ کہ عوام کو ملنے والی اکثر اشیاء خالص بھی نہیں ہوتی اور بے چارے لوگ اس صورتحال سے سخت تنگ نظر آتے ہیں، اگرچہ یہ دعوے سننے کو ملتے رہتے ہیں کہ لوگوں کو معیاری اشیاء کی مقررہ قیمتوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے گی مگر ان دعوئوں کی ناکامی اس بات سے بھی عیاں ہے کہ بازاروں میں کئی اشیاء مختلف ریٹس پر فروخت کی جا رہی ہیں، منافع خوروں کی دیدہ دلیریاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ اب لوگ ان کے ہاتھوں خاموشی کے ساتھ لٹنے میں ہی عافیت محسوس کرنے لگے ہیں، عام لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا موجودہ حکمرانوں کو غریب لوگوں کا بھی کچھ احساس ہے؟، اس وقت حکمران جس طرز عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایک مقروض ملک کے حکمرانوں کو بالکل زیب نہیں دیتا، پاکستان کے ذمہ غیر ملکی قرضوں میں ہوشرباء اضافہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان دن بدن شدت اختیار کر رہا ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں اور غریب طبقہ دو وقت کی روٹی کو ترس چکا ہے، آٹا اور دالیں بھی عام کی پہنچ سے دور ہونا سخت اذیت ناک ہے اور ہماری شہ خرچیاں دیکھئے کہ ہم نے آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج کی درخواستیں کرنے کے باوجود کئی افسران کیلئے چاراصافی تنخواہوں کی منظوری سے بھی گریز نہیں کررہے اوراس انعام کی ادائیگی بنکوں سے 23شرح سود پرقرض لیکر کی جائیگی۔گزشتہ ہفتے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ان کے دفتر میں پیش کیا جانیوالا چائے کا ہرکپ ادھار کے پیسوں سے خریدا جاتا ہے،اس کے باوجود انہوں نے نہ صرف انعام میں چارتنخواہیں دینے کی تجویز منظور کی بلکہ اپنے وزیرخزانہ کوبھی اس کی منظوری کیلئے کہا،اللہ کرے ہمارے حکمران مہنگائی کے ستائے لوگوں کا بھی سوچیں،یہ حقیقت روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ فیصل آباد سمیت ملک کے دیگرکئی علاقوں میں منافع خورمافیا بے لگام ہوچکا ہے اورغربت، مہنگائی وبیروزگاری کے ستائے لوگوں کومقررہ نرخوں پراشیائے ضروریہ نہیں ملتیں،عام لوگوں کو منافع خورمافیا دونوں ہاتھوں سے لوٹتا نظرآتا ہے،یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ مہنگائی کوکنٹرول کرنے کیلئے کوئی خاص سرگرمی نظرنہیں آ رہی، ذخیرہ اندوزوں نے اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرکے لوٹ مارکرنا اپنی عادت بنا رکھا ہے،ان لوگوں کی نت نئے انداز میں ”چوربازاری”سے لوگ اکتا چکے ہیں مگران کی لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ بند نہیں کروایا جا سکا،خدا جانے صاحبان اقتدارکس مصلحت کا شکار ہیں کہ اندھیروں کوعوام کا مقدر بنتے دیکھ کربھی وہ غریبوں اورمہنگائی کے ستائے لوگوں کا احساس نہیں کررہے بلکہ پہلے سے مراعات یافتہ طبقہ ہی حکومتی اقدامات سے فیض یاب ہوتا نظر آتا ہے،اس وقت جوحالات ہیں ان کا تقاضا ہے کہ ملک میں سادگی اورکفایت شعاری کواپنایا جائے، وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط آسان نہیں ہونگی،معاشی استحکام کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ کا ایک اورپروگرام ضروری ہے،اس حقیقت سے ہرخاص وعام آگاہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پرعملدرآمد سے عام آدمی پر بوجھ پڑتا ہے،حکمرانوں کے معاشی استحکام کے نام پرکئے جانیوالے سخت اورغیرمقبول فیصلوں سے عوام کوپریشان کیا ہے،انہیں چاہیے کہ وہ وزیراعظم آفس کے افسران کیلئے چاراضافی تنخواہوں کی منظوری جیسے فیصلے نہ کریں تاکہ ملک میں ہرسطح پر سادگی اورکفایت شعاری کوفروغ ملے،یقینی طور پر ایسا کرنا ملک وقوم کیلئے بیحد کارآمد ثابت ہوگا اوراس سے درپیش مسائل کوحل کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں