50

وکیل کے کلرک پرمنشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر SHO تھانہ ستیانہ معطل

جڑانوالہ (نامہ نگار)”ڈیلی بزنس رپورٹ” کی خبر پر ایکشن،سی پی او نے ایڈووکیٹ کے کلرک پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کرنیکی پاداش پر ایس ایچ او تھانہ ستیانہ کو معطل کر دیا، تفصیلات کے مطابق24اپریل2024کو ”ڈیلی بزنس رپورٹ” میں خبر شائع ہوئی تھی کہ ایس ایچ او تھانہ ستیانہ میاں علی اکبر نے ہمراہ پولیس ملازمین خالد، عثمان، سیلم، نعیم، عدیل، ابرار ہمراہ دیگر4کس نامعلوم سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے27مارچ 2024کو ایڈووکیٹ غلام مرتضی لاہور ہائیکورٹ کے چیمبر ستیانہ لا ایسوسی ایشن میں دن کے وقت گھس کر اسکے کلرک عبدالمجید ساکن 38 گ ب کو حراست میں لیکر اسکے خلاف 28 مارچ 2024 کو منشیات کا مقدمہ درج کیا ذرائع کے مطابق پولیس تھانہ ستیانہ نے چیمبر سے حراست میں لئے جانیوالے کلرک عبدالمجید کی نشاہدہی پر مقدمہ میں مطلوب اسکے بھائی کو اوکاڑہ سے گرفتار کر لیا تھا مگر عبدالمجید کو چھوڑنے کی بجائے الٹا اسکے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا تھا جبکہ وکیل کے چیمبر سے پکڑے جانیوالے کی ویڈیو بھی بطور ثبوت موجود تھی کلرک پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے معاملہ کا نوٹس لیتے سی پی او فیصل آباد نے ایس ایچ او تھانہ ستیانہ کو طلب کرکے انکوائری کی ذرائع کے مطابق دوران انکوائری اختیارات کا ناجائز استعمال اور کلرک پر منشیات کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کا الزام ثابت ہونے پر سی پی او نے ایس ایچ او تھانہ ستیانہ میاں علی اکبر کو معطل کر دیا ہے سی پی او فیصل آباد کا کہنا ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال اور شہریوں کو بلاجواز حراساں کرنیوالے پولیس افسران و ملازمین کیخلاف میرٹ پر کارروائیاں جاری ہیں ایسے ملازمین کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ دوران انکوائری منشیات کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرنا ثابت ہونے پر عبدالمجید کے ورثا نے آر پی او،سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ درج جھوٹی ایف آئی آر کو خارج کرکے بے گناہ سزا کاٹنے والے عبدالمجید کو فی الفور رہا کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں