84

ایرانی تل کی سمگلنگ کو قانونی شکل دینے کی تیاریاں

اسلام آباد(بیوروچیف)وز یر اعظم شہباز شریف کی قیادت حکومت نے افغانستان اور ایران کے قریب بلوچستان کے 13 سرحدی اضلاع کیلئے خصوصی پیکیج پر غور کی خاطر ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے تحت تاجروں نے ایران سے تیل کی درآمد کو قانونی شکل دینے اور 30سے 50 روپے فی لٹر لیوی وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں باڑ لگانے سے بلوچستان کے بعض اضلاع میں لوگوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ آنے کے ساتھ کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اب ان علاقوں میں لوگ گزشتہ 282 روز سے ناکہ بندی پر احتجاج کر رہے ہیں۔ سینئر سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے تناظر میں یہ معاملہ بیحد حساس نوعیت کا ہے اسلئے حکومت بارٹر تجارت شروع کرنے کیلئے حل تلاش کر رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح سے پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔ اس صورتحال کی وجہ سے اندرونی سطح پر بھی پیچیدہ حالات پیدا ہوگئے تھے کیونکہ علاقے کے لوگ گزشتہ 282 روز سے احتجاج اور دونوں ملکوں کے درمیان نقل و حرکت اور تجارت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان 13 اضلاع میں صوبہ بلوچستان کے 56 فیصد لوگ آباد ہیں۔ ایران سے تیل لانے کیلئے تقریبا دس ہزار موٹر لانچیں استعمال کی گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ایران سے روزانہ کی بنیاد پر تقریبا دس لاکھ لٹر پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں