62

کابینہ نے عزم استحکام آپریشن کی منظوری دیدی (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں اس آپریشن سے آبادیوں کی نقل مکانی نہیں ہو گی وزیراعظم نے کہا عزم استحکام ایک کثیر جہتی’ مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون سے پورے ریاستی نظام کا مجموعی وژن ہے اس مقصد کیلئے نئے ومنظم مسلح آپریشن کے بجائے پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات’ جرائم ودہشت گرد گٹھ جوڑ اور ملک میں پرتشدد انتہاپسندی کو فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو اس سلسلے میں اعتماد میں لیا جس کے بعد کابینہ نے عزم استحکام آپریشن کی منظوری دے دی، پیپلزپارٹی نے بھی آپریشن عزم استحکام کی حمائت کی ہے، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اپیکس کمیٹی کی میٹنگ میں عزم استحکام پاکستان آپریشن کا فیصلہ کیا گیا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ آرمی چیف سمیت دیگر اعلیٰ حکام میں سے کسی نے بھی مخالفت نہیں کی اس آپریشن کو ضرب عضب اور راہ نجات سے ملایا جا رہا ہے وہ آپریشن بھی دہشت گردی کے خلاف تھے عزم استحکام آپریشن بھی دہشت گردی کے خلاف ہے حکومت کے کوئی سیاسی عزائم نہیں’ آپریشن کے خدوخال اتفاق رائے کے بعد طے کئے جائیں گے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آپریشن عزم استحکام پر عملدرآمد ہو گا کوئی نقل مکانی نہیں ہو گی انہوں نے کہا نواز شریف کی آپریشن عزم استحکام پاکستان پر حمایت حاصل ہے،، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار انسانی جانوں کی قربانیاں دی ہیں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن راہ نجات کے نتیجہ میں ملک سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا صفایا کرد یا گیا تھا جسکے بعد ملک میں امن وامان قائم ہوا تاہم افغانستان سے امریکی واتحادی افواج کی واپسی اور افغانستان کو طالبان کے سپرد کرنے کے بعد ایک بار پھر سے دہشت گردوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہر دوچار روز بعد ہماری فورسز کہیں نہ کہیں دہشت گردی کا نشانہ بن رہی ہیں ان دہشت گردوں کا سر کچلنے کیلئے آپریشن عزم استحکام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے بعض عالمی طاقتیں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہیں یہ طاقتیں افغانستان مین سرمایہ کاری بھی کر رہی ہیں ہمارا ازلی دشمن بھارت تو پاکستان میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے بھارت خیبرپختونخوا بلوچستان اور گلگت بلتستان کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہے اور یہاں کارروائیوں کیلئے افغانستان اور ایران کی سرزمین استعمال کر رہا ہے بھارت کی مداخلت کے پکے ثبوت ہونے کے باوجود پاکستان اسے بین الاقوامی سطح پر پوری طرح بے نقاب نہیں کر پا رہا جس طرح بھارت کی امریکہ’ کینیڈا اور یوکے میں کارروائیاں پکڑی گئیں ہیں ہمیں اسے بنیاد بنا کر مہم چلانی چاہیے تھی لیکن ہماری خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، دہشتگرد اور ان کے سہولت کار ایک بار پھر منظم ہو رہے ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ ان کے خلاف بے رحم آپریشن کر کے ان کے نام ونشان تک مٹا دیا جائے اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت اور عسکری قیادت کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے ممکن ہے خیبرپختونخواہ کے لوگوں کو یہ دھڑکا ہو کہ عزم استحکام آپریشن کے شروع کئے جانے پر ان کو کہیں ایک بار پھر ماضی جیسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے حکومت کو ان کے تحفظات دور کر کے ان کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ آپریشن عزم استحکام کے مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں