66

وزیراعظم’ مضبوط معیشت کا خواب پورا کرنے کیلئے پرعزم (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ملکر بجٹ بنانا جان جوکھوں کا کام ہے ایک طرف ان کا دبائو دوسری جانب عوامی توقعات’ آئی ایم ایف کی ہر بات نہیں مانی’ مسلسل مذاکرات اور بحث وتمحیص کے ذریعے عوام کو بہت سے ٹیکسوں سے محفوظ رکھا 100 فی صد قوم کے ساتھ ہوں’ معیشت صحیح ڈگر پر آ گئی مالیاتی ادارے سے آخری معاہدہ اور بجٹ تھا، شہباز شریف نے کہا آئی ایم ایف کی تمام باتیں مان لیتے تو بہت سے شعبوں پر بوجھ پڑ جاتا جس سے ہماری مشکلات میں اضافہ ہو جاتا آئی ایم ایف زراعت پر ٹیکس اور کھاد پر مزید ٹیکس لگانے پر اصرار کر رہا تھا اور اس سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا بہت سے طبی آلات پر بھی ٹیکس لگانے کیلئے دبائو تھا خیراتی ہسپتالوں کے طبی آلات پر بھی ٹیکس عائد کرنے پر زور دیا گیا اس حوالے سے ان کو قائل کیا جو آسان نہیں تھا، وزیراعظم نے کہا کہ معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں ہم مضبوط معیشت کا خواب پورا کریں گے،، وزیراعظم شہباز شریف کا ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کا عزم لائق تحسین ہے، انہوں نے آٹھ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد دوسری بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد سعودی عرب کے دو دورے کر کے ملک میں سرمایہ کاری لانے کیلئے جو کوششیں کیں اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جبکہ چین کو سی پیک کے مزید منصوبوں پر کام کیلئے آمادہ کر لیا گیا جبکہ چین کے دورہ کے دوران وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کے سربراہان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جس کے نتیجہ میں متعدد بڑی چینی کمپنیوں نے مثبت جواب دیا ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں، بلاشبہ وزیراعظم ملکی معیشت کیلئے دن رات کام میں مصروف ہیں وہ اس میں ضرور کامیاب ہوں گے وزیراعظم کا یہ عزم بھی قابل تعریف ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مالیاتی ادارے سے آخری معاہدہ اور ان کی مرضی کا آخری بجٹ تھا اس کے بعد ہم ان کے دبائو میں نہیں آئیں گے خدا کرے ایسا ہی ہو کہ ہمیں آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنا پڑیں ایک طویل عرصے سے ہم عالمی مالیاتی پروگرام سے استفادہ کرتے چلے آ رہے ہیں ایک وقت ایسا بھی آتا جب نواز شریف حکمران تھے انہوں نے قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگایا مگر وہ بھی آئی ایم ایف سے جان نہ چھڑا سکے تھے اب تو پاکستان پر غیر ملکی قرضے اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ ہمارے ہاں ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض ہے ہمیں وزیراعظم شہباز شریف پر بھروسہ ہے کہ وہ جو کہتے ہیں درست کہتے ہیں کہ ہماری معیشت صحیح ڈگر پہ آ گئی ہے اور بہت جلد ہماری معیشت مستحکم ہو گی مگر ہمارے خیال میں یہ صرف زبانی جمع خرچ ہی کی بات ہے کیونکہ ہماری برآمدات میں اضافہ کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی بجلی’ گیس’ پٹرول’ ٹیکس نے انڈسٹری کو جمود کا شکار کر رکھا ہے صنعتکار حکومت پر اعتماد نہیں کر رہے حکومت میں شامل شخصیات اشرافیہ سے ٹیکس لینے اور اور انکی مراعات پر کمی نہیں چاہتی عام آدمی کے ناکافی وسائل سے آہستہ آہستہ موت کے منہ میں لے جا رہے ہیں ہماری اقتصادی صورتحال میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے کاروباری طبقہ بے چین ہے آئی ایم ایف کی ایما پر ٹیکسوں کی بھرمار نے زندہ رہنا دشوار بنا دیا ہے سرکاری اداروں میں جاری کرپشن کے آگے بند باندھا نہیں جا سکا کفایت شعاری کا نعرہ دم توڑ چکا ہے سرکاری اداروں میں اصلاحات لانے کے وعدے بھی وفا نہیں ہو سکے وزیراعظم کو اس جانب بھی توجہ مبذول کرنی ہو گی ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صرف چند ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے کافی نہیں شہباز شریف کو دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں