74

پی ٹی آئی میں گروپ بندی (اداریہ)

بانی پی ٹی آئی نے اپنی جماعت میں گروپنگ کا اعتراف کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں’ پارٹی چھوڑنے والے راہنمائوں کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا انہوں نے کہا کہ تشدد سہنے اور فائلیں دیکھ کر بھاگنے والے لیڈروں کے بارے میں الگ فیصلے ہوں گے فواد چوہدری سے متعلق سوالوں کا جواب دینے سے گریز’ عمر ایوب کے استعفیٰ کو مسترد کرتے ہوئے بطور جنرل سیکرٹری کام جاری رکھنے کی ہدایت کی’ دوسری جانب پی ٹی آئی کے راہنما رئوف حسن کا کہنا ہے کہ کور کمیٹی طے کر چکی ہے جنہیں نکالا جا چکا انہیں واپس نہیں لیا جائے گا فواد چوہدری جو مقدمات اور جیل سے رہائی کے بعد اپنی جماعت چھوڑ چکے تھے اب دوبارہ پی ٹی آئی میں واپسی کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے اندر سے ان کی مخالفت کی جا رہی ہے سیاسی حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر فواد چوہدری فیصل واوڈا بننا چاہتے ہیں تو یہ ممکن نہیں! اگر کسی کو فواد چوہدری کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہے تو وہ دور ہو جانی چاہیے وہ کس سیاسی سوچ کے حامل ہیں فواد چوہدری پارٹی میں واپس آنے کیلئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں مگر بانی پی ٹی آئی نے پارٹی چھوڑنے والوں کی جماعت میں واپسی روک دی ہے بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کی ہدایت پر شاہ محمود قریشی کی راہنمائی میں 7رکنی کمیٹی پارٹی چھوڑنے والے راہنمائوں کی واپسی کا فیصلہ کرے گی کمیٹی میں اسد قیصر’ حامد خان’ شہریار آفریدی’ بیرسٹر گوہر’ شاندانہ گلزار اور شبلی فراز شامل ہوں گے دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والوں میں سے کوئی بھی اس وقت تک واپس نہیں آئے گا جب تک بانی پی ٹی آئی کی جیل سے رہائی نہیں ہو گی پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ جب تک عمران رہا نہیں ہوتے ملک آگے بڑھ نہیں سکتا یہ سوچ بھی اتنی مناسب نہیں ہے کیونکہ سیاست دانوں یا حکمرانوں پر بننے والے مقدمات کا انہیں سامنا کرنا ہی پڑتا ہے پارٹی چھوڑنے والے فواد چوہدری اگر آزاد فضائوں میں ہیں تو انہیں بہتر گفتگو اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے عمران خان نے عمر ایوب کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر کے پارٹی میں موجود ان لوگوں کی پلاننگ ناکام بنائی ہے جو پارٹی کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں عمر ایوب کے استعفیٰ کے بعد پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ زیادہ ہونے کے خدشات تھے تاہم فی الوقت پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ وقتی طور پر رک گئی ہے مگر پارٹی میں گروپ بندی جاری ہے جو بانی پی ٹی آئی عمران خان اور پارٹی قیادت کیلئے لمحہ فکریہ سے کم نہیں اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے ان پر مرکزی راہنمائوں کو بھی اعتماد نہیں اگر کوئی راہنما پارٹی پالیسی پر بات کرتا ہے تو دوسرا راہنما اسکی تردید کرتا نظر آتا ہے بعض پارٹی راہنمائوں کو یہ یقین ہے کہ عمران خان کی رہائی فی الحال ممکن نہیں لہٰذا وہ اپنی من مانیاں کر رہے ہیں اخباری بیانات’ دھواں دھار پریس کانفرنسز کے ذریعے خود کو نمایاں کر کے اپنی الگ سیاسی پہچان بنانے میں مصروف ہیں، 9مئی کے واقعات میں ملوث افراد تو قومی مجرم ہیں اور ایسے افراد کو رعایت دینا ملک کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے، عمران کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی منظوری کے بعد انہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا تھا مگر بعد میں بیانات بدلتے رہے پھر امریکہ سے مدد طلب کرتے نظر آئے اور جیل سے رہائی کیلئے فیور مانگی مگر امریکہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی اور مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ہم مداخلت نہیں کر سکتے اس بیان کے بعد عمران کی رہی سہی امید بھی دم توڑ چکی ہے کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں کبھی حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملکر تحریک چلانے کی ہدایت کرتے نظر آتے ہیں مگر وہ اپنی کسی بھی حکمت عملی میں کامیاب نہیں ہو سکے، ہمارے خیال میں پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ اور گروپنگ کی وجہ پارٹی میں جمہوریت کا نہ ہونا ہے جب چند افراد ہی خود کو عقل کل سمجھنے لگیں تو سیاسی جماعتوں میں اختلافات جنم لیتے ہیں گروپ بندی ہوتی ہے پارٹی راہنما ادھر اُدھر ہو جاتے ہیں یہی سب کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے بانی پی ٹی آئی گروپنگ کا اعتراف بھی کر چکے ہیں اور اس حوالے سے شاہ محمود قریشی کی راہنمائی میں 7رکنی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جو پارٹی چھوڑنے والوں کے بارے میں فیصلہ کرے گی بظاہر تو یہ ہی نظر آ رہا ہے کہ پارٹی چھوڑنے کو واپس نہیں لیا جائے گا، بعض پارٹی راہنما بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے منتظر ہیں جس کے فی الحال آثار نظر نہیں آ رہے ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت پارٹی میں گروپ بندی کا تدارک کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرے ورنہ پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ جاری رہے گی اور ایک دن ایسا بھی آئے گا جب پارٹی میں وہ دم خم بھی نہیں ہو گا جس کی امید کی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں