62

بلوچستان کے کسانوں کیلئے تاریخی پیکج کا اجراء (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے کسانوں کیلئے تاریخی پیکج کا اجراء کر دیا، بلوچستان میں بجلی پر چلنے والے 28ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا منصوبے پر 55ارب روپے کی لاگت آئے گی 70فی صد وفاق اور 30فی صد بلوچستان حکومت ادا کرے گی وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت کے مابین زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن معاہدے پر دستخط کی تقریب گزشتہ روز کوئٹہ میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم نے شرکت کی وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے 10سال میں ٹیوب ویلز کے بجلی بل کیلئے 500ارب دیئے سبسڈی کا پیسہ ترقی پر لگا ہوتا تو بلوچستان خوشحال ہوتا’ صوبہ میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر چلانے کا معاہدہ سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا، وزیراعظم نے کہا بلوچستان پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے یہاں بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلز کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے، بلوچستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہے تو اسکی کئی وجوہات ہیں، وفاقی حکومت اس کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی انہوں نے کہا کسان سولر پر ٹیوب ویلز چلا کر اپنی ضروریات پوری کرے گا سولر سے پیدا ہونے والی بجلی پن بجلی سے بھی سستی ہے فیڈرز سے کنکشن کاٹ کر کسانوں کو سولر پینل مہیا کئے جائیں گے تاکہ اس مسئلہ کا حل نکالا جا سکے ہر سال 70سے 80ارب روپے بجلی کے بلز کی مد میں وفاق ادا کر رہا ہے، اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ تین ماہ میں 28ہزار کنکشن لگ جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا سولر منصوبے کے لیے ہم صوبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور کسانوں کو بینکوں سے قرضے بھی دلوائیں گے بلوچستان کی ترقی کیلئے آپ کے ساتھ ہیں،، وفاقی حکومت کا بلوچستان کے کسانوں کیلئے تاریخی پیکج کا اجراء خوش آئند ہے یہ منصوبہ بلاشبہ بلوچستان کے کسانوں کی خوشحالی کیلئے انقلابی منصوبہ ثابت ہو گا اس منصوبہ سے بجلی چوری کا خاتمہ ہو گا، بلوچستان کی ترقی کے لیے وسائل کی ضرورت ہے جو تمام کے تمام وفاق ادا نہیں کر سکتا اس حوالے سے بلوچستان حکومت کو بھی وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہو گا بلوچستان کی خوشحالی کیلئے گوادر بندرگاہ کا کردار اہم ہے صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں اپنی پوری توانائیاں گوادر کی ترقی کیلئے استعمال میں لانی چاہئیں بلوچستان میں معدنی ذخائر کی بڑی تعداد موجود ہے جن کو استعمال میں لا کر صوبہ کی ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دانش سکولوں کے لیے بجٹ میں فنڈز رکھے ہیں جبکہ بلوچستان کی ترقی کیلئے پنجاب نے اپنے حصے کا 150سے 160ارب روپے بلوچستان کو دیا ہے علاوہ ازیں بلوچستان سے گریجوایٹس کو زرعی تربیت کیلئے چین بھیجنے کا بھی پروگرام ہے بلوچستان کی خوشحالی کیلئے صوبہ میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے بدقسمتی سے یہاں کی بعض بلوچ تنظیمیں پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر چل کر سرمایہ کاری کیلئے کی جانے والی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنے میں مصروف ہیں پڑوسی ملک کے آشیرباد سے بلوچستان مین افراتفری پھیلا کر صوبہ کی ترقی کی راہیں مسدود کی جا رہی ہیں جو انتہائی افسوسناک ہیں چینی باشندوں پر حملے کر کے ان کو خوفزدہ کر کے گوادر سمیت دیگر علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور اقتصادی راہداری کے حوالے سے جاری منصوبوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور ان کی کابینہ کو صوبہ میں امن وامان یقینی بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے سرمایہ کاروں کی سکیورٹی یقینی بنانا وقت کی اشد ضرورت ہے اور یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے وفاق صوبہ بلوچستان کی تعمیر وترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کر رہا ہے وزیراعظم نے صوبہ بلوچستان کے کسانوں کیلئے تاریخی پیکج کا اعلان کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام سے محبت کرتے ہیں 28ہزار ٹیوب ویلوں کو سولر پینل پر منتقل کرنے کا پروگرام قابل تعریف ہے اور صوبائی حکومت کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر کے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں