74

اشرافیہ پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانا ناگزیر (ادایہ)

آئی ایم ایف کے دبائو پر پیش کئے جانیوالے وفاقی بجٹ نے عوام کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں ٹیکسوں پہ ٹیکسوں لگا کر عوام کو بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے، جو پہلے ہی حکومت کو ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید بوجھ بڑھایا جا رہا ہے، ایف بی آر کے کرپٹ افسران پر قابو پانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، عام آدمی اور تنخواہ دار طبقہ پر بوجھ بڑھانے کے بجائے حکومت اشرافیہ پر بوجھ بڑھانے سے گریزاں کیوں ہے؟ حکومت نے بجٹ میں عوام پر جو بوجھ ڈالا ہے کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ لوگ ذہنی مریض بن جائیں گے کیا شہریوں کی آمدن واخراجات میں توازن رکھنے کی پالیسی بنانا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوتی’ اگر حکومت ٹیکس جمع کرے اور اپنے اخراجات کم نہ کرے افسرشاہی کی رہائش اور دیگر مراعات پر اربوں روپے خرچ ہوں اور تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھایا جاتا رہے، تو یہ ظلم کب تک برداشت ہو گا وزارت خزانہ ٹیکسوں سے خزانہ بھرنے کی باتیں تو کرتی ہے مگر حکومت بے چارے عوام کو سہولتیں کیا دیتی ہے کیا یہ وزارت خزانہ نے یا وزیراعظم نے کبھی سوچا ہے، وزارت خزانہ کو فیکٹری مالکان کی پروڈکشن پر ٹیکس عائد کرنا چاہیے مختلف قسم کی صنعتیں ملک میں موجود ہیں جو کئی قسم کی مصنوعات تیار کر کے ان کی مارکیٹنگ کرتی ہیں ان سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے دراصل حکومت کا نظام کسی طریقہ کار کے مطابق چل ہی نہیں رہا نظام جب تک درست نہیں ہو گا بے چارے عوام اس کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے شہری جی ایس ٹی کی صورت میں جو ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ کہاں جاتا ہے کسی کو خبر نہیں کہ وہ اصل جگہ پر پہنچتا بھی ہے یا بالا بالا ہی تقسیم ہو جاتا ہے، موجودہ قوانین میں ایسی اصلاحات کی ضرورت تھی جس کے ذریعے سارا نظام ڈیجیٹلائز ہوتا، کس ریٹیلر کے پاس کتنی پراڈکٹس ہیں کس ریٹیلر کے پاس کس چیز کی کتنی مقدار موجود ہے اور وہاں سے اکٹھا ہونے والا ٹیکس کیا واقعی قومی خزانے میں پہنچتا ہے عوام اس سے بے خبر ہے نہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کئے نہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کیا نہ افسرشاہی اور سیاست دانوں کی مراعات کو کم کیا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے بجلی بنانے والی کمپنیز کے ساتھ معاہدے حکمران طبقے نے کئے وہ بجلی بنائیں یا نہ بنائیں کیپسٹی پر حکومت انہیں پیسے ہر حال میں ادا کرے گی، ایک طرف ملک مالی مشکلات سے دوچار ہے تو دوسری طرف ہمارے حکمران ٹیکس میں رعایت دینے میں مصروف ہیں وزیرخزانہ قوم کو بتائیں کہ کھربوں کی ٹیکس چھوٹ کیا غریبوں کے لیے تھی یا پھر مال داروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے؟ یہ جو دو کنال کے گھر حکومت سرکاری افسران کو بنا کر دے رہی ہے کیا مالی بوجھ وفاقی وزراء صوبائی وزرائ’ اراکین اسمبلی برداشت کریں گے؟ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اشرافیہ پر خرچ کر کے عام آدمی کے ساتھ ظلم کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے حکومت نہ تو ٹیکس آمدن بڑھا رہی ہے نہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے نظام میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں نہ سمگلنگ رُک رہی ہے ملک کی انڈسٹری ناقص حکومتی پالیسی کے باعث نیم مردہ ہو چکی ہے بجلی’ گیس’ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھائے جا رہے ہیں ہماری برآمدات کم ہو رہی ہیں ہمارے ہمسایہ ممالک کی برآمدات اپنے اہداف کو چھو رہی ہیں مگر ہماری برآمدات بتدریج گھٹتی جا رہی ہیں وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ ہماری کوشش ہے کہ دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے وہ کون سے اقدامات کئے ہیں جنکی بدولت ہم اپنی معیشت کو مستحکم کر لیں گے اور ہمیں مزید قرضے نہیں لینے پڑیں گے؟ ہمارے خیال میں وزیراعظم کو ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اشرافیہ کی مراعات کو ختم کرنا ہو گا بجلی گیس ودیگر محکموں کے افسران اور اہلکاروں کو فری بجلی فری گیس کی فراہمی روکنے کے احکامات جاری کرنا ہوں گے اگر سخت فیصلے کرنے میں مزید تاخیر کی گئی تو پاکستان کبھی بھی اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا اور ہر حکومت آئی ایم ایف ودیگر عالمی مالیاتی اداروں سے ملکی نظام چلانے کیلئے قرضے لینے پر مجبور ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں