65

(ن) لیگ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مبہم اور سیاسی قرار دے دیا (اداریہ)

(ن) لیگ نے سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کا پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ سیاسی اور مبہم قرار دے دیا ہے حکومت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو وہ ریلیف ملا جو مانگا ہی نہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا اعلیٰ ترین عدلیہ نے آئین کے بجائے سیاسی فیصلہ دیا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے آئین اور انصاف کے تقاضوں کی جگہ سیاسی تقاضوں کو اہمیت دی اور آئین اور قانون کی تشریح کے بجائے آئین سازی کا فرض سنبھال لیا وزیر دفاع نے کہا انصاف دینے کے عدل کی جنگ لڑیں تو ہم انشاء اﷲ آپ کے معترف ہوں گے آپکو سلام پیش کریں گے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیگی راہنما رانا ثناء اﷲ خاں کا کہنا تھا کہ ایسے عدالتی فیصلے جو ابہام پیدا کریں وہ ملک وقوم کے مفاد میں نہیں ہوتے اگر انصاف بن مانگے دیا جائے تو ایسے فیصلوں کے اثرات افسوسناک ہیں عدالت کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے مطالبے کو ردّ کر دیا تھا پھر سنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا پشاور ہائی کورت نے بھی ان کا مطالبہ ردّ کر دیا، معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ سنی اتحاد کونسل کے حق میں نہیں آیا رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ آزاد ارکان کو تحریک انصاف کے ارکان کہا گیا آزاد ارکان نے حلف دیا کہ وہ آزاد ہیں ، سنی اتحاد کونسل کی استدعا تسلیم نہیں خارج ہو گئی اب ایک نیا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں آ گیا ہے، پی ٹی آئی قیادت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تاریخ ساز کہہ رہی ہے پی ٹی آئی کے چیئرمین نے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے تحریک انصاف کی قیادت اور ورکرز میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور پی ٹی آئی قیادت کو یہ امید بندھ گی ہے کہ اب ان کی قومی اور پنجاب اسمبلی میں عددی قوت میں مزید اضافہ ہو گا اور وہ حکومت کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں گے، الیکشن کمیشن کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا تاہم سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے اس کو معطل کر کے خصوصی نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا فیصلہ سنا دیا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ مبہم ہے’، معزز عدالت اس حوالے سے سے بہتر جانتی ہے کہ کیا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ آئین اور قانون کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ سب سے بڑا ادارہ ہے اگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے تو اسے تسلیم کرنا ہو گا جہاں تک حکومت کی طرف سے نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا تعلق ہے تو وہ آئین اور قانون کے مطابق ہی کوئی بھی اقدام اٹھائے گی، معزز عدالت کے فیصلے کے بعد ایک بار ملک میں سیاست ہلچل مچ گئی ہے، اب دیکھیں ملک میں سیاست کیا رخ اختیار کرتی ہے! بدقسمتی سے ہمارا انتخابی سیاسی کلچر اس نہج میں ڈھل چکا ہے کہ کسی کی کامیابی اور اپنی شکست کو خوش دلی سے قبول ہی نہیں کیا جاتا جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جار ہا ہے تحریک انصاف کے وجود میں آتے ہی ملک میں ایک ایسا سیاسی انقلاب آیا جس نے ملک کے سیاسی نظام کو داغدار کر دیا انتقامی سیاست’ گالم گلوچ’ الزام تراشی’ جھوٹ اور یوٹرن کی سیاست نے ملک کو شدید نقصان سے دوچار کیا پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کے سہارے خود کو زندہ رکھا ہوا ہے جبکہ کسی اور سیاسی جماعت کے پاس اتنی بڑی تعداد میں سوشل میڈیا ورکرز موجود نہیں یہی وجہ ہے کہ مذکورہ پارٹی خاموشی سے لاکھوں پی ٹی آئی ورکرز کے سوشل میڈیا گروپ کے ذریعے لمحوں میں اپنا پیغام ان تک پہنچا دیتی ہے یہ گروپ اتنا سرگرم ہے کہ ان کا مقابلہ کوئی بھی سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر نہیں کر سکتی’ اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کیلئے کم ازکم دو ہفتے تک انتظار کرنا ہو گا اگر پی ٹی آئی کو قومی اور پنجاب اسمبلی میں مزید ارکان کی قوت حاصل ہو گئی تو وفاق اور پنجاب کا چلنا مشکل ہو سکتا ہے بڑی مشکل سے ملک میں سرمایہ کاری کا آغاز ہونے جا رہا ہے اگر ملک میں ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام شروع ہو گیا تو بیرونی سرمایہ کاری کیلئے حکومت کی تمام کوشش رائیگاں جا سکتی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قیادتیں ملک کو چلنے دیں اس میں ملک وقوم کا فائدہ ہے آج کی اپوزیشن کل کی حکومت ہو سکتی ہے اگر سسٹم کو چلنے نہ دیا گیا تو ایک بار جمہوریت کی بساط الٹ سکتی ہے جو کسی بھی جماعت کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں