57

سیاسی ومعاشی عدم استحکام’ ترقی کی راہ میں رکاوٹ (اداریہ)

ملک جب بھی معاشی طور پر سنبھلنے لگتا ہے اس کی ترقی کی راہ میں سیاسی عدم استحکام آڑے آجاتا ہے اور معیشت کی بحالی کیلئے کی جانے والی تمام تر کوششیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں گزشتہ 5برسوں میں معیشت نے اتنے ہچکولے کھائے کہ ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ملک کسی بھی وقت دیوالیہ ہو سکتا ہے سیاسی قیادتوں کی سیاسی لڑائی نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ کوئی سیاسی جماعت کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں عوام یہ تماشا دیکھ رہے ہیں مگر ان کو کوئی روشنی کی کرن نظر نہیں آ رہی آٹھ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد ملک میں ایک بار پھر مخلوط حکومت اقتدار میں آ گئی شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب کیا گیا انہوں نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کیلئے سعودی عرب اور دیگر ممالک سے سرمایہ کاری لانے کیلئے بھرپور کوششیں کیں ان کی کوششوں کے نتیجہ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کا عندیہ دیا تاہم ملک میں معزز عدالتوں کی جانب سے بعض فیصلوں کے بعد ایک بار پھر سے بعض سیاسی جماعتیں جلسے جلوسوں کے پروگرام بنا رہی ہیں جس سے سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کے خدشات ہیں، طویل عرصہ کے بعد پاکستان میں سیاسی ومعاشی استحکام دیکھنے میں آنے لگا تھا، حکومت نے بڑی مشکل سے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو لگام ڈال کر پاکستانی کرنسی کی بے وقعتی کو کنٹرول کیا جس کے نتیجے میں مہنگائی کی سطح میں بھی ریکارڈ کمی واقع ہوئی ملک کی خارجہ پالیسی’ تجارتی روابط اور برآمدات میں بہتری آئی مگر ملک کا سیاسی استحکام اچانک سیاسی عدم استحکام میں اس طرح تبدیل ہوا کہ اچانک عدالت عظمیٰ کے فیصلے نے پوری قوم کو چونکا کر رکھ دیا، اس فیصلے کی رو سے پی ٹی آئی ایک بار پھر بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر سکتی ہے اور نتیجتاً ملک میں پھر سے انتشار کی سیاست’ اپنا رنگ دکھا سکتی ہے، آئینی ماہرین کے خیال میں معزز عدالت کے فیصلے سے بڑی سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، نواز شریف نے بھی عدالتی فیصلہ پر حیرانی کا اظہار کیا ہے اور حکومت اس فیصلہ پر نظرثانی کی اپیل بھی کر سکتی ہے مری میں (ن) لیگ کل بیٹھک کرے گی اور اس میں اہم سیاسی فیصلے متوقع ہیں، آئندہ دس بارہ روز ملکی سیاست کیلئے بڑے اہم ہو سکتے ہیں، مخصوص نشستیں ملنے سے پی ٹی آئی کی مضبوطی میں اضافہ ہو گا قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں ایک تگڑی اپوزیشن وجود میں آ جائے گی اور حکومت کو قانون سازی میں دشواری اور اپوزیشن کی مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو چکا ہے جو آگے چل کر معاشی عدم استحکام بھی پیدا کرے گا کیونکہ پی ٹی آئی عمران کی رہائی تک نہ پارلیمنٹ کو چلنے دے گی اور نہ ہی ملک کو سیاسی ومعاشی استحکام حاصل ہونے دے گی سیاسی وعسکری قیادت نے ملک کو سرمایہ کاری کیلئے سازگار بنانے کیلئے دہشت گردوں کا سر کچلنے کیلئے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا لیکن پی ٹی آئی نے اس کی کھل کر مخالفت کر کے پاکستان میں داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی ابھی حکومت اور پاک فوج اس آپریشن کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں مصروف ہی تھی کہ ملک میں سیاسی ومعاشی عدم استحکام کا آغاز کر دیا گیا ایک حلقہ عزم استحکام چاہتا ہے تو دوسرا حلقہ عدم استحکام چاہتا ہے عوام کی دونوں حلقوں سے اپیل ہے کہ خدارا! ملک کے استحکام ترقی وخوشحالی کیلئے مل کر کام کریں تاکہ سیاسی ومعاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں