96

آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدے (اداریہ)

ملک کا ہر شہری بجلی بلوں سے تنگ آ چکا ہے ہر دوسرے روز بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بجلی کے فی یونٹ نرخ میں اضافہ کیلئے نیپرا سے رجوع کر رہی ہیں نیپرا بجلی کے نرخوں میں اضافہ کی منظوری دے دیتا ہے اور پھر بجلی کے بلوں میں اضافہ کی رقم بھی شامل کر دی جاتی ہے اور اس بارے کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی گیس مہنگی کی جا رہی ہے حالانکہ اگر حقیقت کو کھنگالا جائے تو یہ سب حکومت کی ناکامیوں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص پالیسیوں کا قصور نظر آئے گا مہنگی بجلی نے عوام کی زندگیاں عذاب بنا رکھی ہیں عام آدمی سے لیکر صنعتکار تک ہر کوئی بجلی مہنگی ہونے پر تشویش میں مبتلا ہے مگر حکومت اس کا کوئی قابل قبول حل نکالنے میں ناکام ہے، کسی حکومت نے توانائی کے متبادل ذرائع پر کام نہیں کیا جبکہ آئی پی پیز سے ایسے ظالمانہ معاہدے کئے گئے جن کی سزا ہر شہری بھگت رہا ہے، بجلی بنے یا نہ بنے ان کمپنیوں کو سالانہ دو ہزار ارب کی ادائیگیاں کرنا ضروری ہیں! عام شہری سالانہ دو ہزار ارب بغیر بجلی استعمال کئے ادا کرتے ہیں اور یہ رقم پاکستانیوں کی جیب سے نکلتی ہے پھر حکومت کہتی ہے کہ ٹیکس اکٹھا نہیں ہو رہا، آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدے کرنے والے حکمرانوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہم غریب عوام کی موت کے پروانے پر دستخط کر رہے ہیں ایسے لوگ ملک اور قوم کے ہمدرد نہیں ہو سکتے، آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے فی یونٹ 24روپے ہر صارف اضافی ادا کر رہا ہے جو ظلم کے مترادف ہے، سابق نگران کابینہ کے وزیر توانائی گوہر اعجاز کے مطابق پچھلے دو سال میں 23ہزار چار سو میگاواٹ پر مبنی آئی پیز کی پیداوار میں سے 50فی صد سے بھی کم بجلی استعمال ہوئی پانچ ہزار میگاواٹ کے درآمدی کوئلے پر مبنی آئی پی پیز پاور پلانٹس نے گزشتہ دو سال میں پچیس فی صد سے بھی کم صلاحیت کا استعمال کیا 25فی صد کیپسٹی پر چلنے کے باوجود فل کیپسٹی چارجز یعنی چھ سو بانوے ارب روپے لے رہے ہیں ونڈو آپریشنز پجاس فی صد سے کم ہیں لیکن فی یونٹ اضافی چارجز کے ساتھ ایک سو پچھتر ارب روپے جبکہ آر ایل این جی کو پچاس فی صد کم صلاحیت پر چلنے کے باوجود ایک سو اسی ارب روپے دیئے جا رہے ہیں یہ قومی المیہ نہیں تو کیا ہے؟ پاکستان کے 24کروڑ لوگوں سے سالانہ 2ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں وصول کی گئی ہیں، کیا یہ معاہدے لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں ہیں، پھر کہتے ہیں صنعتیں بند ہو رہی ہیں کاروبار بند ہو رہے ہیں ملک ترقی نہیں کر رہا معیشت مضبوط نہیں ہو رہی گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں آئی پی پیز معاہدے سراسر ملک وقوم کے لیے نقصان دہ ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے پارلیمنٹ کے منتخب نمائندے بھی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پارلیمنٹ قانون ساز ادارہ ہے اور اس فورم پر قوم اور ملک کی تقدیر کے فیصلے کئے جاتے ہیں مگر یہاں تو اپنی اپنی پڑی ہے، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کہہ رہے ہیں کہ انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسر کے معاہدوں کا جائزہ لے رہے ہیں عوام پر بوجھ ختم کے لیے جو ہمارے فائدے میں نہیں ہوں گے انہیں خیرباد کہہ دیں گے بجلی کے معاہدوں پر یکطرفہ کارروائی نہیں کر سکتے حکومت نے آئی پی پیز کو گارنٹیز دے رکھی ہیں، ہم اسکی پاسداری کر رہے ہیں،، ہمارے خیال میں آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کر کے ان سے جان چھڑانے کی تراکیب تلاش کرنا ہوں گی کیونکہ یہ کمپنیاں پاکستان کے عوام کا بہت خون چوس چکی ہیں، اگر معاہدوں کو فوری طور پر ختم کرنا دشوار ہے تو حکومت ان پاور یونٹس سے جتنی بجلی حاصل کرے اس کی ادائیگی کرے یہ تو کوئی معاہدہ نہیں کہ یونٹس بجلی کم فراہم کریں اور وصولیاں زیادہ کریں، ہماری حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ ملک وقوم کو نقصان پہنچانے والے معاہدوں کو ختم کرنے کیلئے طریقہ کار طے کر کے ان سے جان چھڑوائے تاکہ سالانہ 2ہزار ارب کی بچت ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں