94

آئی پی پیز کی صورت میںعوام پر عذاب مسلط کیا گیا (اداریہ)

سابق نگران وزیر گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کی لوٹ مار سے پردہ ہٹایا تو بے چاری عوام کو یہ علم ہوا کہ جنوری 2024ء سے مارچ 2024ء تک ہر ماہ آئی پی پیز کو ایک سو پچاس ارب روپے کیپسٹی چارجز دیئے گئے جن کمپنیوں کو 150 ارب روپے کی ادائیگیاں ہوئی ہیں ان میں سے آدھی نے صرف دس فی صد پیداواری صلاحیت پر کام کیا ہے اعجاز گوہر کے مطابق چار پاور پلانٹس نے ایک یونٹ بھی بجلی نہیں بنائی لیکن ہر ماہ انہیں بھی ایک ہزار کروڑ روپے ادا کئے گئے، عوام کی جیبوں سے نکلوائے گئے سوال یہ ہے کہ پیسوں کا حساب کس سے لیا جائے گا اور کس کو اس ظلم کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا؟ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی برداشت کم ہو رہی ہے آئی پی پیز کی صورت میں عوام پر جو عذاب مسلط کیا گیا ہے اس کو کب تک سہیں گے؟ زندگی مشکل اور عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے یہ سسٹم کب تک چلے گا؟ عام آدمی کی جیب سے پیسے نکال کر سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو مراعات دی جائیں! پاکستان کی معیشت بدترین دور سے گزر رہی ہے لیکن ان حالات تک پہنچانے والے آج ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں سیاسی عدم استحکام کے ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا ہے یہ بحران اژدہے کی طرح منہ کھولے کھڑا ہے کئی دہائیوں سے پارلیمنٹ کا حصہ رہنے والے آج مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر بات کرنے کیلئے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں آئی پی پیز کی صورت میں جو ظلم اس قوم پر ہوا ماضی قریب میں سرکاری سطح پر اتنا پڑھا لکھا، سنجیدہ’ الجھا ہوا’ مصدقہ ظلم شائد ہی ہوا ہو کیونکہ جب آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ہو رہے تھے اس وقت سب نے خاموشی اختیار کئے رکھی حالانکہ اس وقت مہنگے ترین بجلی معاہدوں کے خلاف بولنے کا وقت تھا! مہنگی بجلی کے باعث عوام کی زندگی اجیرن بن چکی ہے اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو ادا کرنے کیلئے رقم پوری نہیں ہو رہی تو بجلی کے ریٹس میں اضافہ کر کے بے چارے عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے بدترین حالات میں بھی ملک میں مخصوص طبقوں کو بجلی گیس پٹرول مفت فراہم کیا جا رہا ہے عوام پر اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا کہ آئی پی پیز اگر بجلی نہ بھی پیدا کریں پھر بھی ان کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، منتخب نمائندے بھی خاموش ہیں اور آئی پی پیز کمپنیاں عوام کا خون چوس رہی ہیں، یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ بھاری تنخواہیں لینے والے سرکاری افسران اور اہم ترین شخصیات کو فری بجلی’ پٹرول اور دیگر مراعات کیوں دی جا رہی ہیں حالانکہ یہ شخصیات اور سرکاری افسران بجلی گیس کے بل اور پٹرول کی قیمت آسانی سے ادا کر سکتے ہیں عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر مراعات یافتہ طبقہ کو اہمیت دین عجیب منطق ہے مخصوص طبقے کی تمام مراعات ختم کر کے اور مہنگی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ختم کئے جائیں اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ان کی زندگی آسان ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں