95

نیشنل ایکشن پلان پوری طرح نافذ کرنے کی ضرورت (اداریہ)

ملک کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر دہشت گردوں’ تحزیب کاروں نے کارروائیاں کرنا شروع کر دی ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز ان دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں ہماری فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ملک دشمن عناصر کے سامنے سینہ سپر ہیں اور جانوں کے نذرانے دینے سے بھی گریز نہیں کر رہے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ایجنٹ اور پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں موجود خوارج پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرنے میں ملوث ہیں، پشاور کے آرمی پبلک سکول میں 16دسمبر 2014ء میں دہشت گردوں نے جو کھیل کھیلا قوم اسے کبھی بھلا نہیں سکتی اس واقعہ کے بعد ضرورت محسوس کی گئی کہ حکومت’ فوج اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اس کیلئے نیشنل ایکشن پروگرام بنایا جائے گورنر ہائوس پشاور میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف’ آرمی چیف جنرل راحیل شریف تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ اور سیاسی جماعتوں کی قیادت سرجوڑ کر بیٹھی اور فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کا سر کچلنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اس موقع پر نیشنل ایکشن پلان وضع کیا گیا جس پر ہر ایک نے دستخط کئے، اجلاس میں طے پایا کہ تمام صوبے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں فوج تو پہلے ہی ضرب عضب کی مہم شروع کر چکی تھی یہ بڑی کڑی آزمائش تھی کیونکہ دہشت گردوں نے پہاڑیوں کی چوٹیوں سرنگوں غاروں میں اپنے مورچے اور کمین گاہیں بنا رکھی تھیں پاک فوج اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو گئی ایک طویل جدوجہد کے بعد دہشت گردی کے ناسور کو کچل دیا گیا فاٹا کا سارا علاقہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں ضم کر دیا گیا اور سول انتظامیہ کی ڈیوٹی لگا دی گئی کہ وہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ذریعے دہشتگردی کے فتنے کو دوبارہ سر نہ اٹھانے دیں، معاملہ اس وقت خراب ہو جب عمران کی پی ٹی آئی کو پشاور میں اقتدار ملا نہیں وفاق میں بھی حکومت مل گئی انہوں نے امن عامہ کی دھجیاں بکھیر دیں جیلوں میں قید خطرناک قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور سرحد پار افغانستان میں موجود قبائلیوں کو پیشکش کی گئی کہ وہ بھی واپس اپنے گھروں میں آ جائیں، قیام امن کیلئے دہشتگردوں کے ساتھ نام نہاد مذاکرات کا سلسلہ بھی چل نکلا اور اس طرح پاک فوج کی جانب سے دہشتگردی کو کچلنے کیلئے جو قربانیاں دی گئیں تھیں ان سب پر پانی پھر گیا سرحد پار افغانستان سے آنیوالے دہشتگرد پورے ملک میں پھیل گئے جنہوں نے ملک میں ایک بار بدامنی کا سلسلہ شروع کر دیا یوں بلوچستان’ سندھ’ خیبرپختونخواہ میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا اس خطرے کے پیش نظر حکومت اور سکیورٹی اداروں نے فیصلہ کیا کہ ہر صوبے میں نیشنل ایکشن پلان کی شاخیں کھولی جائیں مرکزی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں طے پایا کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے بھرپور آپریشن شروع کر دیا جائے لہٰذا عزم استحکام پاکستان پروگرام کا اعلان کیا گیا مگر بعض ناسمجھ لوگوں نے اس آپریشن کا غلط مطلب لیا حالانکہ پاک فوج نے یہ واضح کر دیا تاکہ آپریشن صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف ہو گا مگر اس کے باوجود کچھ سیاستدانوں نے اس کی مخالفت کی عزم استحکام پاکستان آپریشن کی سست روی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ کوئی صوبہ اس ضمن میں سرگرم کردار ادا نہیں کر رہا بلکہ خیبرپختونخوا کا صوبہ یا حکومت تو سرے سے ہی آپریشن کے خلاف ہے بلوچستان میں پے درپے دہشتگردی کے واقعات کے بعد وفاقی حکومت اور عسکری قیادت میں بہت تشویش پائی جاتی ہے حالات کا تقاضا ہے کہ پورے ملک میں عزم استحکام پاکستان آپریشن شروع کیا جائے اور سرحد پار افغانستان سے پاکستان میں پناہ لینے اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا صفایا کیا جائے نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عملدرآمد کرانا وقت کی ضرورت ہے،، وزیراعظم شہباز شریف ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور ان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے آپریشن عزم استحکام کیلئے 20ارب روپے کی منظوری دی ہے وزیراعظم نے کہا افواج پاکستان کی لازوال قربانیاں ناقابل فراموش ہیں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اس کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے اور افواج پاکستان کو تمام وسائل فراہم کریں گے۔ وزیراعظم کے اس عزم کے بعد بہادر افواج کو دہشتگردوں کا سر کچلنے کیلئے بے رحم آپریشن کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں