75

انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں غزہ میں مظالم پر خاموش کیوں؟ (اداریہ)

اقوام متحدہ کے ادارے ”اوچا” کی قائمقام سربراہ جوائس مسویا نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا ڈھول بجانے والے غزہ پر خاموش کیوں ہیں آپ کی انسانیت کہاں چلی گئی؟ غزہ میں اسرائیلی جنگ سے ہونے والا تباہ کاریوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی زبانیں گنگ کیوں ہو گئیں کیا ان کو یہ سب کچھ نظر نہیں آ رہا وہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے کیوں گریزاں ہیں، آزادی، احترام، برابری، انسانی جان، توقیر اور انسانیت کا سبق پڑھانے والوں کو اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے بچوں اور خواتین پر بمباری راکٹ گرانے پر آواز اٹھانے سے کس نے روکا ہے، غزہ کے شہری بھوکے اور پیاسے ہیں، بیمار اور لاچار ہیں لیکن حالات یہ ہیں کہ ہم اس وقت 24گھنٹوں سے زیادہ خوراک اور دیگر امدادی سامان کی منصوبہ بندی کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں، غزہ میں فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں ان کے پاس سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں، اسپتال بھی تباہ ہیں غزہ کے لوگ کیسے کیسے المیّوں سے نبردآزما ہیں مگر اسرائیلی فورسز کو ان پر مزید مظالم ڈھانے کی پڑی ہے، اقوام متحدہ کے ادارے ”اوچا” کی قائمقام سربراہ جوائس مسویا کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے عالمی خوراک کے پروگرام نے غزہ میں اپنے ٹرک پر اسرائیلی فائرنگ کے بعد خوراک کی تقسیم روکنے کا اعلان کیا ہے،، یو این کے ادارے اوچا کی قائمقام سربراہ جوائس مسویا نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو ان کا کام یاد دلاتے ہوئے ان کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان تنظیموں کو جو خود کو انسانی خدمت کا بہت بڑا چیمپئن سمجھتی ہیں سے کہا ہے کہ وہ دنیا کو اسرائیل کا اصل چہرہ دکھائیں کہ کس طرح غزہ پر انسانی جانوں کا قتل عام جاری ہے بچوں عورتوں پر دن رات گولہ باری کی جاری ہے غزہ میں ہسپتال اور فلاحی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے صہیونی فوجی فلسطینیوں کا قتل عام کر کے ان کی نسل کشی کر رہے ہیں اقوام متحدہ کے ادارے کی تشویش کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے سیکرٹری جنرل نے فلسطینیوں کی نسل کشی پر آواز اٹھائی مگر اس حوالے سے ان کی آواز کو اہمیت نہیں دی گئی غزہ میں انسانیت کا قتل عام کیا جا رہا ہے ان کو خوراک پہنچانے کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے امریکہ’ فرانس’ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک انسانیت کے خلاف اسرائیلی فورسز کی بربریت پر آواز اٹھانے کے بجائے اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے، غزہ جنگ کا آغاز 7اکتوبر 2023ء کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئے گئے حملے کے بعد ہوا تھا اس جنگ کو 10ماہ ہو چکے ہیں مگر اس جنگ کو روکا نہیں جا سکا اس جنگ نے غزہ کی پٹی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنجایا ہے عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور رہائشی رفح کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں غزہ میں خوراک نہ پہنچنے سے قحط کا خطرہ ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد منظور ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر چڑھائی جاری ہے خوراک اور ادویات کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث غزہ میں انسانی جانیں غیر محفوظ اور خوراک کیلئے امدادی سامان کی منتظر ہیں اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کی قائمقام سربراہ نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو غزہ پر خاموش رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے، صرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں غزہ میں ہونے والے مظالم پر آواز اٹھائیں جبکہ امریکہ’ فرانسف فرانس ودیگر ممالک سرائیل پر دبائو ڈالیں کہ جنگ بندی کیلئے آمادہ ہو اور غزہ میں امداد سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں