57

خسارہ زدہ سرکاری اداروں کی نجکاری اچھا اقدام (اداریہ)

خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے باعث حکومتی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں حکومت نے نقصان میں چلنے والے اداروں کو نجی شعبہ کے سپرد کرنے کے بیڑہ اٹھایا ہے اس حوالے سے نجکاری عمل کو انتہائی شفاف رکھنے کے تمام تر اقدامات کئے جا رہے ہیں مستقبل میں مخالف حکومت کی طرف سے کسی بھی انداز میں متنازعہ بنانے کی کوشش ہو سکتی ہے اس وقت سب سے اہم پاکستان ائیرلائنز کی نجکاری ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بھی نجی شعبہ کے حوالے کرنے کیلئے ضروری معاملات طے کئے جا رہے ہیں پی آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کو ہر لحاظ سے تنازعہ سے پاک رکھنے کیلئے وزارت نجکاری ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، سرکاری اداروں کی نجکاری اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑا’ انتہائی حساس اور مشکل کام ہے وفاقی وزیر نجکاری وسرمایہ کاری عبدالعلیم خان اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کیلئے کوشاں ہیں ان کی موجودگی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی قسم کے ذاتی فائدے کے بجائے ملک وقوم کی ترقی کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے اب تک جو کام ہوا ہے اس میں انہوں نے پارلیمنٹ میں سوالات کا تفصیل سے جواب دیا ہے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کہتے ہیں کہ خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری اہم ترین معاملہ کو قوانین وضوابط کے مطابق تیزی سے نمٹانا ہو گا اس میں کوئی شک نہیں کہ پرائیوٹائزیشن سے ملکی خزانے پر بوجھ کم ہو گا اسی لئے مزید ادارے بھی نجکاری کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں ملکی معیشت پر نجکاری کے عمل کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ”موڈیز” کی ریٹنگ اس امر کا واضح ثبوت ہے پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے دو سو 23ویں اجلاس میں پی آئی اے’ روز ویلٹ ہوٹل سمیت نجکاری کے مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ نجکاری کے عمل میں تیزی لائی جائے علاوہ ازیں وفاقی وزیر نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان سے چین کے بڑے کاروباری گروپ ہیگزنگ الیکٹریکل کے چیئرمین لیانگ ژانگ زہونے وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں چینی گروپ کے سربراہ نے پاکستان میں ”ری نیو ایبل” انرجی کے شعبے میں پہلی انورٹرز اور بیٹریز کی فیکٹریاں لگانے اور الیکٹریکل کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ نے چینی ادارے کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جبکہ موجودہ حالات میں بہترین کاروباری ماحول میں سرمایہ کاری کے خاطر خواہ نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں انہوں نے چین سمیت دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی” اس وقت ملک میں بڑے پیمانے پر مختلف سیکٹر میں سرمایہ کاری اور خسارہ زدہ سرکاری اداروں کی نجکاری انتہائی ضروری سمجھی جا رہی ہے کیونکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی وجہ سے ملکی خزانے پر بہت بوجھ ہے ہر سال خسارے میں چلنے والے اداروں کو بھاری رقوم کی فراہمی حکومت کیلئے دشوار ہوتی جا رہی ہے اسی بناء پر نجکاری کیلئے قومی اداروں کو پیش کیا جا رہا ہے یوں تو نجکاری کی فہرست کافی لمبی ہے تاہم اس وقت پی آئی اے روز ویلٹ ہوٹل اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو پرائیویٹ کرنے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے پی آئی اے کی نجکاری کے مراحل طے کئے جا رہے ہیں جبکہ بجلی کی 3تقسیم کار کمپنیوں کو نجکاری کیلئے منتخب کیا گیا ہے جن میں فیصل آباد کی بجلی تقسیم کار کمپنی بھی شامل ہے پی آئی اے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کا کیا مستقبل ہو گا اس کا بھی حکومت نے یقینا مناسب انتظام کر رکھا ہو گا کیونکہ ان اداروں کی نجکاری سے بے روزگاری کے خدشات ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کو نجی شعبہ کے سپرد کرنے سے قبل ان اداروں میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے افسران اور دیگر سٹاف کو روزگار کی فراہمی یا گولڈن شیک ہینڈ جیسی کسی سکیم سے مستفید ہونے کا موقع ضرور فراہم کیا جائے تاکہ نتیجہ میں روزگار سے ہاتھ دھونے والے رُلنے سے محفوظ رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں