58

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں (اداریہ)

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک اس کے ازلی دشمن بھارت نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور بھارت کے حکمران پاکستان کے خلاف نت نئی سازشیں کرتے رہتے ہیں مگر اﷲ کی یہ خاص مہربانی ہے کہ یہ قائم ہے اور انشاء اﷲ تاقیامت قائم رہے گا دشمن ملک بھارت کی مختلف طریقوں سے پاکستان میں امن وامان کو خراب کرنے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں پاکستان میں دفاعی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیشہ ایسی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا جب بھی دشمن نے وار کرنے کی کوشش کی اس کو منہ کی کھانا پڑی دہشت گردی کے عفریت کو بہادری اور جواں مردی سے افواج نے قابو کیا، فورسز’ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں سے آج پاکستان محفوظ ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست میں ایسا بگاڑ پیدا ہوا کہ اس کو درست سمت کی طرف کئی برس بعد بھی گامزن نہ کیا جا سکا جو لمحہ فکریہ سے کم نہیں سیاسی عدم استحکام سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے،’ پاکستان میں رائے کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور تقسیم سے معاشرہ طبقوں میں ہٹ گیا ہے معاشرے میں قومی شناخت مفقود ہو کر رہ گئی ہے، زہریلی سیاست اور بونی سوچ کے حامل سیاست دان اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے معاشرتی اقدار کو خود غرضی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے دنیا بھر کی ریاستوں میں دوچار سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں مگر پاکستان ایشیا کا واحد ملک ہے جہاں غیر رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 251 ہے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ 166 جماعتیں ہیں معاشرے میں ذرا سی مقبولیت حاصل کرنے والا شخص اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنا لیتا ہے پاکستان میں بعض ایسی سیاسی پارٹیاں بھی ہیں جو کہ فرد واحد پر مشتمل ہیں لیکن وہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں، پاکستان کا معاشرہ بکھر کر رہ گیا ہے جو کہ سیاسی اور فرقہ وارانہ تفریق کی وجہ سے اکثریت اقلیت میں تقسیم ہو گئی ہے ملک میں سیاسی جوڑ توڑ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں شائد ہی ایسا وقت گزرا ہو جب پاکستان میں جوڑ تور کی سیاست نہ رہی ہو یہاں پر ہر سیاسی جماعت بیک وقت اس کوشش میں رہتی ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ سکے اسی لئے یہاں پر جمہوری روایات مستحکم نہیں ہو پائیں اور موجودہ صورتحال میں ان کے مستحکم ہونے کے امکانات بھی دکھائی نہیں دیتے اگر سیاسی قیادت مقتدر حلقوں کے بجائے ملک اور عوام کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے جمہوری اصولوں پر عمل کرے تو نہ صرف بہت سے مسائل فوری طور پر حل ہو سکتے ہیں بلکہ سیاسی قیادت کو عوام کی طرف سے ایسی حمایت بھی حاصل ہو سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں مقتدر حلقوں کی دست نگر نہیں رہے گی اس حوالے سے ملک کی تمام سیاسی قیادتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی استحکام کیلئے ٹھوس فیصلے کئے جا سکیں، سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ملک نہیں چلایا جا سکتا، اگر سیاسی قیادتیں چاہیں تو بڑے سے بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں اور فیصلہ کریں کہ کسی بھی غیر سیاسی یا غیر ملکی طاقت کو مداخلت کی اجازت دیئے بغیر ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے گا اور تمام آئینی ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں گے عدلیہ کو آئین سازی سے گریز کرنا ہو گا اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی بندوبست سے خود کو الگ کرنا ہو گا سیاستدان کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے اور ملک کے مسائل ذاتی وسیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین پاکستان کے تحت پارلیمنٹ کے اندر حل کرنا ہوں گے، ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کو حل کرنا سیاست دانوں کو کام ہے اور ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنانا اور انہیں سبق سکھانا ہماری بہادر افواج کا کام ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادتیں اپنے اختلافات کو بھلا دیں اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنیوالی ملک دشمن قوتوں کے خلاف افواج پاکستان کا ساتھ دیں تاکہ دشمنوں کے دانت کھٹے کئے جا سکیں اور انہیں کبھی پاکستان کیخلاف سازشیں کرنے کی جرأت نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں