79

مہنگائی کے خاتمے کے حکومتی دعوے… (اداریہ)

مہنگائی کا خاتمہ کرنے کے حکومتی دعوے عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں حکومتی وزراء کی جانب سے ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے مہنگائی کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ پر آ گئی ہے مگر عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا، ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے جس میں اگست کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 9.64 فی صد رہی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً تین سال بعد مہنگائی سنگل ڈیجیٹ پر آئی ہے مئی 2023ء میں مہنگائی 38 فی صد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی تھی گزشتہ ماہ میں سالانہ بنیادوں پر کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی کی شرح 9.6 فی صد جبکہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ جولائی اور اگست کے دوران اوسط مہنگائی 10.36 فی صد ریکارڈ کی گئی گزشتہ سال اگست میں مہنگائی کی شرح 27.4 فی صد تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ادارہ شماریات کی رپورٹ میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجیٹ پر آنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے، حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ مہنگائی میں مزید کمی لانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ممکن ہے حکومت کے پاس کوئی ایسا فارمولا ہو کہ مہنگائی میں مزید کمی واقع ہو سکے! مگر ہمارے خیال میں مہنگائی پر اس وقت تک قابو پانا ناممکن ہے جب تک ہم معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوتے معیشت کسی بھی ملک میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اسے بزنس کی رگوں میں خون کا نام دیا جاتا ہے اگر خون گردش کرے گا تو بزنس بھی پھلے پھولے گا ورنہ تن مردہ جہاں ہے وہیں پڑا رہے گا بدقسمتی سے ہماری معیشت اتنی بدحال ہو چکی ہے کہ اسے دو دہائی پیچھے (جب روپے کی قیمت مستحکم تھی) لے جانا چاہیں بھی تو نہیں لے جایا جا سکتا ہماری انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے برآمدات کے اہداف کا حصول دشوار ہوتا جا رہا ہے ہمارے قومی ادارے خسارے کا شکار ہیں اگر حکومت خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری سے رقوم حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کی راہ میں سیاسی قیادتیں رکاوٹ بن کر اسے ناکامی سے دوچار کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں ملک میں سمگلنگ کے دھندے کو روکا نہیں جا سکا جس کا نقصان ٹیکس جمع کرنے والے ادارے ایف بی آر کو ہو رہا ہے زراعت میں خود کفیل پاکستان جو چاول’ گندم’ دالیں’ چینی اور دیگر زرعی اجناس برآمد کرتا تھا اب درآمد کرنے پر آ گیا ہے بجلی کمپنیوں نے صنعتکاروں’ کاروباری اداروں حتیٰ کہ عام آدی کو بھی احتجاج پر مجبور کر دیا ہے انڈسٹری جو روزگار کی فراہمی کیلئے ایک مقام رکھتی تھی اس کو زندہ رکھنے کیلئے صنعتکار بھی سوچ میں پڑے ہوئے ہیں مگر ان کو بھی ڈور کا سرا نہیں مل رہا ملک میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ہم ان قرضوں کا انٹرسٹ ادا کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے قرض لینے پر مجبور ہیں پاکستان میں افراط زر کی شرح بنگلہ دیش اور بھارت سمیت خطے کئی ممالک سے کہیں زیادہ ہے خالی نعروں اور دعوئوں سے تو ترقی نہیں ہو سکتی بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری ٹیکسوں کے بعد لوگوں کی حقیقی آمدن بہت کم ہو چکی ہے وسائل کم ہو اور مسائل زیادہ تو گھریلو بجٹ متاثر ہونا لازم ہے دیکھا جائے تو مہنگائی کم کرنے کے حکومتی دعوے صرف لوگوں کو تسلی دینے کی کوشش ہے اگر حکومت واقعی مہنگائی کا خاتمہ چاہتی ہے تو غریبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کر کے اشرافیہ سے ٹیکس وصول کر کے حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے افسران کو مراعات دینے کے بجائے ان کو کفایت شعاری پر راغب کیا جائے بنک شرح سود میں کمی کریں تاکہ کاروباری ادارے فروغ پا سکیں۔ بہتر معاشی پالیسیاں معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے ناگزیر ہیں مہنگائی میں کمی کے لیے حکومت کو ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں