53

پی ٹی آئی راہنمائوں کی گرفتاریاں (اداریہ)

ملک میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل کا آغاز’ تحریک انصاف کے اسلام آباد میں سیاسی پاور شو میں پی ٹی آئی راہنمائوں کی جانب سے دھمکیوں اور اسلام آباد میں جلسے کے نئے قانون کی خلاف ورزی پر تحریک انصاف کے راہنمائوں کی گرفتاریاں شروع’ پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی راہنما شیرافضل مروت’ عامر ڈوگر شعیب شاہین کو حراست میں لے لیا جبکہ زرتاج گل پولیس کو چکمہ دیکر فرار ہو گئیں پولیس دیگر راہنمائوں کی گرفتاریوں کیلئے بھی متحرک 28راہنمائوں کیخلاف مقدمات درج کر لئے گئے پی ٹی آئی کی پنجاب کی قیادت کے خلاف بھی کریک ڈائون ہو گا، پی ٹی آئی راہنمائوں کے اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں کار سرکار میں مداخلت’ توڑ پھوڑ اور دفعہ144 کی خلاف ورزی کی دفعات شامل ہیں وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کی اسلام آباد میں جلسے میں تقریر سے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے بھی علی امین گنڈاپور کی تقریر اور بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے وزیراعلیٰ کے پی کی غیر ضروری گفتگو پر پارٹی قیادت ان سے نالاں ہے، شیرافضل مروت بھی پنجاب حکومت کو اپنے بیانات سے اشتعال دلانے میں لگے رہے وفاقی وزراء نے بھی ان کو کرارا جواب دیا ہے جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں یکدم اضافہ ہوا ہے۔ علی امین گنڈاپور کے گزشتہ روز کے جلسے میں صحافیوں کے خلاف قابل اعتراض الفاظ کے استعمال نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں صحافیوں نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے غیر مشروط معافی مانگ لی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم صحافی برادری کا احترام کرتے ہیں پارلیمانی صحافیوں نے پی ٹی آئی راہنمائوں کی معافی پر علی امین گنڈاپور سے معذرت کا مطالبہ کیا عورت فائونڈیشن نے وزیراعلیٰ کے پی کی جانب سے خواتین صحافیوں کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر دیا،، پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عمران خان کو رہا کرائیں گے جبکہ وزیردفاع خواجہ آصف نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ امین گنڈاپور کی بڑھکوں سے عمران رہا نہیں ہو سکتے ان کی باتیں رنگ بازی ہے علی امین گنڈاپور نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 15روز میں رہا نہ کیا گیا تو ہم خود اڈیالہ جیل پہنچ کر انہیں رہا کرالیں گے،، بدقسمتی سے ملک میں سیاسی عدم استحکام اس حد تک جا پہنچا ہے کہ معاملے کی بجائے محاذ آرائی زور پکڑ رہی ہے تحریک انصاف نے اگلا جلسہ لاہور میں کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ان کے عزائم کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید گرم کرنے کا پروگرام تیار کئے ہوئے ہے چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، اس وقت ملک کسی بھی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، بحرانوں نے ملک کو گھیر رکھا ہے دشمن ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وار کرنے کیلئے تیار ہے اگر اس صورتحال میں سیاسی قیادتوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو مشکلات بڑھتی جائیں گی۔ تحریک انصاف پر پہلے ہی بڑا کٹھن مرحلہ گزر رہا ہے 9مئی جیسے واقعات کے ابھی تک جھٹکے محسوس کئے جا رہے ہیں اور ایک بار جماعت کی قیادت نئی غلطی کرتے جا رہی ہے خیبرپختونخوا کے سی ایم نے جس دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ 15روز میں عمران کو رہا کر دیا جائے ورنہ ہم خود اڈیالہ جیل سے انہیںرہا کرالیں گے یہ بیان سراسر ریاست کو کھلے عام دھمکی کے مترادف ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ریاست کو چیلنج کیا جائے عمران کے ملٹری کورٹ ہونے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے اگر ان کی پارٹی کی مرکزی قیادت نے کوئی انتہائی اقدام اٹھایا تو پھر ریاست کا حرکت میں آنا آئینی ہو گا ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی وصوبائی قیادتیں تحمل مزاجی سے سیاست کریں جذبات کی رو میں بہہ کر سیاسی کھیل کھیلنا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے درجہ حرارت میں اضافہ کے بجائے اسے سرد کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں