105

عوامی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت (اداریہ)

ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث معیشت کی بحالی کا خواب دھندلا نظر آ رہا ہے اتحادی حکومت اپنے مسائل میں الجھی ہے عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے معاشی چیلنجز ہونے کا نام نہیں لے رہے ایک بار پھر ایک سیاسی جماعت سیاسی انتشار پیدا کرنے کیلئے میدان میں آ چکی ہے جب بھی سرمایہ کاری کیلئے فضا سازگار ہوتی ہے سیاسی عدم استحکام آڑے آتا ہے اور حکومت عوامی مسائل سے منہ موڑ کر سیاسی تنائو کم کنے کیلئے حرکت میں آ جاتی ہے یوں عوام کو ریلیف کی فراہمی کے اقدامات مؤخر کر دیئے جاتے ہیں اور اس سے عوام میں بے چینی بڑھتی چلی جاتی ہے حکومت عوام کو ریلیف فراہمی کے دعوے کرتی تو ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا سیاسی انتشار کے باعث حکومت کی توجہ عوام سے ہٹ جاتی ہے حالانکہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر اس وقت سب سے زیادہ ضرورت عوامی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے معاشی بحران کے باعث حکومت عوام پر ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر محاصل کے اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے وزیرمملکت برائے خزانہ علی پرویز نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کیلئے منی بجٹ بھی لایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ مالیاتی ادارے ہمارے لئے دروازے کھول رہے ہیں لہٰذا حکومت دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے پر مجبور ہے،، وزیر مملکت کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بار عوام کو آزمائش میں ڈالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور عوام کو مزید مسائل میں الجھایا جائے گا جو عوام کا ایک اور امتحان ہو گا، گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی عوام امتحان در امتحان دینے سے مصروف ہیں مگر ان کے مسائل کے حل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی حکومت کی جانب سے وعدے’ دعوے اور عوام کو ریلیف فراہمی کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا ہر کوئی اپنی مرضی عوام پر مسلط کرنے میں مصروف ہے مہنگائی میں کمی کے دعوے کئے جا رہے ہیں مگر اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے عوام بدترین مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اگر حکومت چاہتی ہے کہ عوام کے مسائل کم ہوں مہنگائی پر قابو پایا جائے تو اسے بیوروکریسی اور اشرافیہ کو سرکاری خزانے سے جو بے تحاشا مراعات وسہولیات دی جا رہی ہیں ان کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرے پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک جو بیرونی قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے کیا وہ واقعی ایسی مراعات وسہولیات دے کر معاشی حوالے سے استحکام حاصل کر سکتا ہے؟ کوئی بھی حکومت اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کو تیار نہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اشرافیہ کے چنیدہ نمائندے ہی مل کر حکومت بناتے ہیں اور اسے چلانے کیلئے وہ بیوروکریسی کو نوازتے رہتے ہیں اس گٹھ جوڑ نے ملک کو اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ ہم بیرونی امداد کے بغیر چلنے کے قابل ہی نہیں رہے حکومتی ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے پوائنٹ سکورنگ کرنے کی بجائے عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دیں جو سب سے اہم ہے اگر حکمران عوام کے مسائل سے منہ موڑیں گے تو کون ان کا پرسان حال ہو گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں