81

”اکلوتے لخت جگر کی ہلاکت پر دکھیاری ماں کی فریاد”

پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت قتل و غارت اغوا بھتہ خوری بچوں خواتین کیساتھ زیادتی جیسے سنگین جرائم اور ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ نے دفاتر تک محدود پولیس افسران کی کارکردگی کو عیاں کر دیا ہے ایک طرف ضلع فیصل آباد میں روزانہ 100سے زائد ڈکیتی راہزنی کی وارداتیں معمول بن چکی ہے تو دوسری جانب جڑانوالہ تھانہ صدر کی حدودِ میں جعلی پولیس مقابلہ ایلیٹ فورس کے شیر جوانوں کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے 9ویں جماعت کے یتیم طالبعلم غلام دستگیر کی ہلاکت نے ہر باشعور شہری کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے مگر سیاسی پنڈتوں کو خوش کرنے میں مگن ضلعی پولیس کی مبینہ مجرمانہ خاموشی معنی خیز ہے،وقوعہ کے مطابق عید میلاد النبی کی رات 16ستمبر 2024کو جڑانوالہ میں سجے ہوئے بازار دیکھ کر نواحی گائوں چک نمبر 353 گ ب کا رہائشی 9 ویں جماعت کا طالبعلم غلام دستگیر اپنے کزن 12 ویں جماعت کے طالبعلم علی کامران، اور دوستوں حیدر اور فیضان کے ہمراہ موٹر سائیکل نمبری(ایل ای وی)4716 پر سوار ہو کر واپس گائوں جا رہا تھا کہ 240 گ ب لنک روڈ پر ناکہ لگائے سرکاری گاڑی میں ایلیٹ سٹی فورس کے جوانوں نے تعاقب کرتے ہوئے چک نمبر 353 گ ب حیدر زرعی فارم کے قریب موٹر سائیکل سواروں کو گاڑی کی ٹکر مار کر گرا دیا اور فائرنگ کرکے 2 کزن طالبعلموں غلام دستگیر اور علی کامران کو زخمی کر دیا اور دونوں کو سرکاری گاڑی میں ڈال کر علاج کیلئے ٹی ایچ کیو ہسپتال لیکر آئے مگر تشویشناک حالت کے پیش نظر دونوں کو فیصل آباد ریفر کر دیا گیا پولیس تھانہ صدر نے ایلیٹ فورس کے ٹی اے ایس آئی نسیم خان کی مدعیت میں جعلی پولیس مقابلہ کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تحریر کیا کہ دونوں کزن اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں جڑانوالہ میں ایلیٹ فورس کے جوانوں کی فائرنگ سے جعلی پولیس مقابلہ میں 2 کزن طالبعلموں کے زخمی ہونیوالے کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے فیصل آباد میں ہونیوالے تمام پولیس مقابلوں کی رپورٹس طلب کی وزیر اعلی پنجاب کے نوٹس پر سی پی او کامران عادل نے ایس ایس پی آپریشنز عبدالوہاب کی سربراہی میں 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 3 ایلیٹ اہلکاروں راشد،نوید اور طارق کو معطل کر دیا تھا جعلی پولیس مقابلہ میں زخمی ہونیوالے 2 کزن طالبعلموں کے واقعہ پر ورثا نے ڈی ایس پی سرکل جڑانوالہ کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا تھا یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جعلی پولیس مقابلہ میں ایلیٹ فورس کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالا ہسپتال زیر علاج یتیم طالبعلم غلام دستگیر گزشتہ روز دم توڑ گیا جڑانوالہ میں جعلی پولیس مقابلہ میں ایلیٹ فورس کے جوانوں کی فائرنگ جاں بحق ہونیوالے یتیم طالبعلم غلام دستگیر کا والد کافی سال قبل وفات پا گیا تو اسکی والدہ نے اپنے بچوں کی پرورش اور انکے بہتر مستقبل کے سہانے خواب کو پورا کرنے کیلئے گاں میں لوگوں کے گھروں میں کام کاج شروع کر دیا اور بڑھاپے کے سہارے اکلوتے بیٹے کو پڑھانے کیلئے جڑانوالہ حسین شوگر ملز نذیر میموریل سکول میں 9 جماعت میں داخل کروایا رکھا تھا جاں بحق ہونیوالے غلام دستگیر کی 3 بڑی بہنیں ہے جن میں سے 2 شادی شدہ اور ایک غیر شادی شدہ ہے جعلی پولیس مقابلہ میں بیوہ والدہ اور 3 یتیم بہنوں کے اکلوتے بھائی کی ہلاکت نے ضلع فیصل آباد میں ہونیوالے پولیس مقابلوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع فیصل آباد میں ہونیوالے تمام پولیس مقابلوں کی اعلی سطحی انکوائری کروائی جائے ضلع فیصل آباد میں جرائم کی شرح میں اضافہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ آر پی او فیصل آباد اور سی پی او فیصل آباد تھانوں کا اچانک وزٹ اور گشت کے نظام کو چیک کرنے کی بجائے دفتر میں بیٹھ کر اِکا دکا درخواستوں پر انکوائری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کاغذی کارروائی میں آئی جی پنجاب کو سب اچھا کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی پنڈتوں کی خوش آمد میں مگن آر پی او اور سی پی او فیصل آباد کو اپنے دفاتر سے نکل کر رات کے وقت گشت کے دوران ناکوں پر موجود رہنے کی بجائے ہوٹلوں پٹرول پمپوں اور چوہدریوں کے ڈیروں پر بیٹھ کر ڈیوٹی کرنیوالے پولیس ملازمین کی موثر انداز میں مانیٹرنگ کرنی چاہیے اور ضلع فیصل آباد میں بڑھتے ہوئے سنگین جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے کیلئے زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی طور پر اقدامات کریں اکلوتے لخت جگر کی ہلاکت پر بیوہ ماں اور بہنوں کی آہوں بکاہ بیوہ ماں اور 3 یتیم بہنوں کا کہنا ہے کہ غریب ہونا انکا سب سے بڑا جرم بن گیا ہے اگر انکے بھائی کی جگہ خدا نخواستہ کسی وڈیرے جاگیردار سیاست دان بیوروکریٹ یا اعلی منصب پر فائز خاندان کا چراغ ہوتا تو اب تک پورے صوبہ میں ہلچل مچ جاتی مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے نوٹس کے باوجود 7 دن تک ہسپتال میں زیر علاج غلام دستگیر کی نہ تو کسی سیاست دان اور نہ ہی کسی ضلعی پولیس آفیسر نے عیادت تک کی کیا اس معاشرے میں غریب کو جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے “محافظ ہی ریکارڈ یافتہ قاتل نکلے”جعلی پولیس مقابلہ میں جاںبحق ہونیوالے یتیم طالبعلم غلام دستگیر کے ماموں فاروق گورائیہ کی مدعیت میں پولیس تھانہ صدر نے ایلیٹ فورس کے(ٹی اے ایس آئی )سمیت 5 اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرکے 3 معطل اہلکاروں راشد،نوید اور طارق کو حراست میں لے لیا ہے مگر مقدمہ میں نامزد مرکزی ملزم ٹی اے ایس آئی نسیم خان اور تھانہ لنڈیانوالہ میں پہلے سے درج قتل کے مقدمہ میں ریکارڈ یافتہ ڈرائیور رضوان کی تاحال گرفتاری نہ ہونا پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کی کوشش ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تھانہ صدر جڑانوالہ میں غلام دستگیر کے ہلاکت پر قتل کی دفعات کے تحت درج رجسٹرڈ مقدمہ میں نامزد ڈرائیور رضوان پہلے بھی سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر تھانہ لنڈیانوالہ میں پہلے سے درج قتل کے مقدمہ میں آزاد ہو گیا تھا “انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ”یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایس ایس پی آپریشنز عبدالوہاب کی سربراہی میں بننے والی 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ میں ایلیٹ فورس کے جوانوں کو قصور وار قرار دیا ہے جس پر پولیس تھانہ صدر نے پہلے انکے خلاف 2 کزن طالبعلموں کو زخمی کرنے کا کراس ورشن مقدمہ درج کیا تھا جبکہ یتیم طالبعلم غلام دستگیر کی ہلاکت پر کراس ورشن میں نامزد اہلکاروں کیخلاف قتل کی دفعہ 302 شامل کر لی گئی ہے جعلی پولیس مقابلہ میں یتیم طالبعلم کی ہلاکت پر ورثا کی جانب اٹھنے والے سوالات کا جواب کون دے گا 1:کیا ایلیٹ فورس کے جوانوں نے پولیس مقابلہ سے قبل طالبعلموں کو گرفتاری کیلئے وارننگ دی۔ 2:پولیس مقابلہ میں جدید اسلحہ سے لیس ایلیٹ فورس 5 شیر جوانوں میں سے کسی کو خراش تک کیوں نہ آئی۔ 3:ایلیٹ فورس کے اہلکار پولیس مقابلہ میں زخمی ہونیوالے طالبعلموں کو پولیس افسران کے جائے وقوعہ پر پہنچنے سے پہلے ہسپتال کیوں لیکر گئے4:پولیس جاں بحق ہونیوالے یتیم طالبعلم اور اسکے ساتھیوں کا 8 دن بعد بھی تاحال کوئی سابقہ کریمینل ریکارڈ سامنے کیوں نہ لا سکی ہے 5:جدید اسلحہ سے لیس ایلیٹ فورس کے جوانوں نے گاڑی کی ٹکر سے گرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کرنے کی بجائے گولیاں کیوں ماری۔6:جعلی پولیس مقابلہ میں یتیم طالبعلم غلام دستگیر کی ہلاکت پر کون انصاف فراہم کرے گا۔”بیوہ والدہ اور ورثا کا مطالبہ”جعلی پولیس مقابلہ میں ایلیٹ فورس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے یتیم طالبعلم غلام دستگیر کی بیوہ والدہ کا کہنا ہے کہ ظالموں نے اسکے بڑھاپے کے اکلوتے سہارے کو بے گناہ قتل کرکے جو ظلم کی داستان رقم کی ہے اس پر چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے از خود نوٹس لینا چاہیے اور جعلی پولیس مقابلہ میں شامل ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو نوکریوں سے برخاست کرکے انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں