31

فیکٹریوں میں گندے کپڑوں کا بطور ایندھن استعمال،شہری بیماریوں میں مبتلا

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) سدھار ،دھاندرہ میں زہریلے دھوئیں کے بادل شہریوں کے سروں پہ منڈلانے لگے ،پیمپرز ،گندے کپڑے،پلاسٹک و دیگر اشیا بطور ایندھن استعمال ہونے لگا،تفصیلات کے مطابق سدھار ،دھاندرہ اور گردونواح میں سائزنگ یونٹس،ڈائینگ فیکٹریوں میں پیمپرز ،گندے کپڑے، پلاسٹک بیگز اور دیگر اشیا بوائلر میں بطور ایندھن استعمال ہونے اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں شام ہوتے ہی شہریوں کے سروں پر بادلوں کی طرح منڈلانے لگتا ہے جس کی وجہ سے شہری سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہور ہے ہیں محکمہ ماحولیات کے افسران کی نا اہلی اور غفلت کے باعث بیماریوں میں دن بدن اضافہ ہور ہا ہے ڈائینگ فیکٹریوں اور سائرزنگ یونٹس کے مالکان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے سوشل میڈیا اور اخبارات میں خبریں لگنے کے باوجود بھی محکمہ ماحولیات ہمیشہ کی طرح غفلت کی نیند سو رہا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ماحولیات کے افسران منتھلیاں وصول کر کے زہریلا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہے اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی ان کو کھلی چھٹی ہے اور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر اپنے اعلیٰ افسران کو سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہے شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ زہریلا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں اور محکمہ ماحولیات میں چھپی کالی بھیڑوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں