57

سنیارٹی اور قابلیت کی بنا پر فوج کی سربراہی پر میرا حق تھا،جنرل (ر)علی قلی خان

فیصل آباد(آن لائن) پاک فوج کے جنرل ریٹائرڈ علی قلی خا ن خٹک نے کہا ہے کہ سنیارٹی اور قا بلیت کی بنا پر فوج کی سر برا ہی میرا حق تھا، چو ہدری نثار اور ان کے بھا ئی جنرل افتخار رکاوٹ بنے، نواز شریف کو میرے خلاف چوہدری نثار اور جنرل افتخار نے بھڑ کایا تھا اور نواز شریف نے میری ترقی کی فا ئل روک لی، فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کر نی چا ہیے، بھٹو کو پھا نسی دے کر جنرل ضیا نے غلطی کی، جنرل وحید کا کڑ ایک مثا لی فو جی آفیسر تھے، میرٹ کی پا ما لی سے ادارے تبا ہ ہو جا تے ہیں،آن لا ئن کے مطا بق ان خیا لا ت کا اظہا ر انہو ں نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہو ئے کیا، انہو ں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ذوالفقا ر علی بھٹو کو پھا نسی دے کر جنرل ضیاء الحق نے بہت بڑی غلطی کی، 1998ء میں نئے آرمی چیف کی تقرر ی کاسوال اٹھا تو میں سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر تھا، میرے بعد جنرل خا لد نواز،جنرل پرویز مشرف اور نسیم رانا کا نمبر تھا، فو ج میں میجر،کر نل،بریگیڈیر اور میجر جنرل کی ترقی ایک سلیکشن پراسس کے ذریعے ہو تی ہے، آرمی چیف جنرل جہا نگیر کرا مت نے چیف آف جنرل سٹا ف کی تقرری کر تے ہوئے مجھے منتخب کیا اور مجھے عہدہ دیا، جنرل افتخار کی ریٹائرمنٹ پر انہیں سیکرٹری دفاع لگا دیا گیا، میرے والد جنرل حبیب اللہ کو جنرل ایوب نے فوج سے فارغ کرایا تھا، جنرل افتخار بطور چیف آف جنرل سٹاف توسیع لینا چاہتے تھے،مگر جنرل جہا نگیر کرا مت نہ ما نے، میرے جو نیئر جنرل مشرف کو آرمی چیف لگا یا گیا،تو میں نے فو ج چھوڑ دی،سیکیورٹی کو نسل کی تجویز پر وزیراعظم نواز شریف نے جہا نگیر کرا مت کو بلا کر خفگی کا اظہار کیا، جنرل جہا نگیر نے سٹینڈ لینے کی بجائے استعفیٰ دے دیا، جنرل کاکڑ میرٹ پر یقین رکھتے تھے، تو سیع کی پیشکش پر انکار کر دیا، 1993میں سیا سی بحران کے حل میں کردار ادا کیا اور نئے الیکشن کروائے، جنرل مشرف کی بر طرفی کاوقت غلط تھا، حا لات جیسے بھی ہو ں فوج کو سیاست میں مدا خلت نہیں کر نی چا ہیے،مو جودہ کشمکش سے پوری قوم کا نقصا ن ہو رہا ہے، میرے تایا اسلم خٹک صوبہ سرحد کے گورنر رہے، گو ہر ایو ب میرے بہنوئی تھے ان کیساتھ قرابت داری نے میرے پروفیشنل کیریئر کو فا ئدہ نہیں، نقصا ن پہنچا یا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں