57

شنگھائی کانفرنس’ مختلف ممالک کے وفود کی آمد (اداریہ)

پاکستان 15اور 16اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہ حکومت کی کونسل کے 23ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا جو وزیراعظم شہباز شریف زیرصدارت جناح کنونشن سنٹر میں ہو گا چین’ بھارت’ روس’ ایران اور کرغستان کے وفود پاکستان پہنچ گئے ہیں بھارت کا 4جبکہ روس کا وفد بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ آج پہنچیں گے وفود کی پاکستان آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات تھے چینی وزیراعظم لی چیانگ 14تا 17اکتوبر کے دوران پاکستان کا دورہ کریںگے ایرانی اول نائب صدر ڈاکٹر محمد رضا عارف کی 15اکتوبر کو پاکستان آمد متوقع ہے چینی وزیراعظم کے ساتھ وزارت خارجہ اور تجارت کے حکام بھی ہوں گے چینی وزیراعظم صدر زرداری کے ساتھ ساتھ پارلیمانی راہنمائوں اور اعلیٰ عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے ایرانی اول نائب صدر ایس سی او سربراہان مملکت اجلاس کی سائیڈ لائنز پر پاکستانی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سربراہی اجلاس میں چین’ روس’ بیلاروس’ قازقستان’ کرغزستان’ تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے اعظم شرکت کریں گے بھارتی وزیر خارجہ سرامنیم جے شنکر بھی اجلاس میں شریک ہوں گے اس کے علاوہ مبصر ملک منگولیا کے وزیراعظم ترکمانستان کے چیئرمین وزراء کابینہ بھی کانفرنس کا حصہ ہوں گے’ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کئی منصوبوں پر ورکنگ مکمل کر لی گئی گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے افتتاح قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے لیے 2ارب ڈالرز کے قرض سمیت مختلف معاہدوں کا امکان ہے جبکہ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے متعلق پیش رفت کا بھی امکان ہے گوادر کول پاور پلانٹ سے متعلق بھی حکومت فنانشل کلوز معاہدے کی خواہاں ہے ذرائع کے مطابق چین سمندر میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کے منصوبے میں معاہدہ چاہتا ہے اسٹیٹ بنک اور چینی سنٹرل بنک کے درمیان کرنسی سوآپ معاہدے کا امکان ہے ذرائع کے مطابق پاکستان چین سے خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی یوآن اور چین پاکستان سے خریدی گئی اشیاء کی ادائیگی روپے میں کر سکے گا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعظم چین لی کی چیانگ کی قیادت میں دونوں ملکوں کے وفود پاک چین تعلقات کے تمام پہلوئوں بشمول اقتصادی اور تجارتی روابط اور سی پیک کے تحت تعاون پر جامع تبادلہ خیال کریں گے،، SCO کا سربراہی اجلاس پندرہ اور سولہ اکتوبر کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں چین’روس’ ایران’ بھارت اور دیگر ممالک کے سربراہان اور نمائندگان شریک ہو رہے ہیں موجودہ حالات کے پیش نظر مختلف ممالک کے سربراہان یا نمائندگان کی پاکستان آمد ایک اہم موقع ہے اصولی طور پر یہ ہونا چاہیے کہ اس دوران تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی معمولی کی سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے معزز مہمانوں کے احترام کے پیش نظر خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے اس موقع پر بھی اپنی منفی سیاست کو سرفہرست رکھا ہوا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر احتجاج کا فیصلہ قومی مفادات سے متصادم ہے یہ احتجاج کسی بھی طور پر ملکی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا ایک ایسا موقع جب اسلام آباد میں غیر ملکی مہمانوں کی آمد اور پھر میزبانی کا سلسلہ شروع ہو گا کیا یہ مناسب ہے کہ اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران وجوان پی ٹی آئی کے احتجاج کو کنٹرول کرنے یا ان کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مصروف ہوں ملک ایسی احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہے دشمن کو پاکستان میں معاشی استحکام ہضم نہیں ہو رہا، ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بھی پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات اور بھاری سرمایہ کاری کے فیصلے ہضم نہیں ہو رہے یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ پاکستان میں سی پیک منصوبے پائیہ تکمیل تک پہنچ کر ملکی ترقی کیلئے معاون ثابت ہوں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اس موقع پر مکمل طور پر حکومت کا ساتھ دیکر ثابت کر دے کہ ہم ایک ہیں سیاسی قیادتوں کو بھی اسی قسم کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کو ترنوالہ سمجھنے والوں کو یہ علم ہو سکے کہ کوئی بھی دشمن ہمارے درمیان کسی قسم کی دیوار کھڑی نہیں کر سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں