62

پاکستان’ چین کے درمیان 13معاہدے

شنگھائی تعاون کانفرنس میں شرکت کیلئے چینی وزیراعظم کی پاکستان آمد شاندار استقبال’ وزیراعظم شہباز شریف نے چینیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے غیر متزلزل عزم کا یقین دلایا دونوں ملکوں کے درمیان 13معاہدے ہوئے گوادر ائیرپورٹ کا ورچوئل افتتاح کر دیا’ جبکہ انسانی وسائل’ صنعت’ زراعت’ تجارت’ کرنسی سمیت ایم او یوز پر دستخط کئے گئے چینی وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں پاکستانی آمد کے بعد چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان حکومت کی 23ویں میٹنگ میں شرکت کرنے اور وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے پر بہت خوشی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم ترقی پذیر ملک’ ابھرتی ہوئی منڈی اور بڑا مسلم ملک ہے جبکہ پاکستان چین کا ہر موسم کا اسٹریٹجک تعاون کرنے والا ساتھی اور آہنی دوست ہے وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم کی موجودگی میں پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے وزیراعظم ہائوس میں دونوں سربراہان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس کے بعد نیو گوادر ائیرپورٹ کی افتتاحی تقریب کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبہ جات میں ایم او یو پر دستخط کر دیئے گئے دونوں ممالک کے درمیان اطلاعات’ مواصلات’ آبی وسائل’ صنعت’ زراعت تجارت سمیت متعدد معاہدوں پر بھی دستخط کئے گئے وزراء وسیکرٹریز نے دستاویزات کا تبادلہ کیا چینی وزیراعظم 17اکتوبر تک پاکستان میں قیام کرینگے جن کے ہمراہ تجارت’ خارجہ’ قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے وزراء بھی ہوں گے دورے کا ایجنڈا وسیع ہے جس میں تعاون کو وسعت دینے اور سی پیک کے اگلے مرحلے کو شروع کرنے پر توجہ دی جائے گی پاور سیکٹر کے قرضوں کا دوبارہ جائزہ بھی پاکستانی ایجنڈے میں شامل ہے چینی شہریوں کی سکیورٹی ایجنڈے میں سرفہرست رہے گی’ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین نے صنعت’ زراعت’ تجارت کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے دوطرفہ معاہدے دونوں دوست ملکوں کے درمیان نئے باب کا اضافہ ہے پاکستان کی ترقی کیلئے چین کے پختہ عزم کے معترف ہیں معاشی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں چین نے نمایاں کردار ادا کیا ہے گوادر ائیرپورٹ دونوں ملکوں کی مضبوط دوستی کا مظہر ہے،’ شنگھائی کانفرنس میں چین کے وزیراعظم کی شرکت کیلئے آمد خوش آئند بلاشبہ چین پاکستان کا بااعتماد دوست اور ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دینے والا ملک ہے دونوں ملکوں کی دوستی کی مثالیں دنیا بھر میں دی جا رہی ہیں چین نے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبہ میں بھاری سرمایہ کاری کر کے عالمی ممالک کو حیران کر دیا بلوچستان میں گوادر رپورٹ کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی پائیہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے جس کا ورچوئل افتتاح کر دیا گیا ہے یہ عظیم منصوبہ پاکستان کا ابھرتی ہوئی معیشت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں بھی معاون ثابت ہو گا پاک چین سدابہار تزویراتی تعاون وشراکت داری علاقائی امن اور خوشحالی کیلئے سنگ میل ہے چین کا پاکستان کی ترقی کیلئے کردار ناقابل فراموش ہے یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت تمام چیلنجوں سے گزرتے ہوئے آج اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی پوزیشن میں آ گئی ہے چین کے وزیراعظم لی چیانگ کے دورے کے موقع پر پاکستان اور چین کے مابین سی پیک کے دوسرے مرحلے کیلئے بھی کام کے آغاز کا عندیہ مل رہا ہے جبکہ سی پیک علاقائی ترقی وخوشحالی کی ضمانت بن رہا ہے تو اس سے پاکستان کی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا کیونکہ پاکستان کی مصنوعات کی برآمد کیلئے سی پیک کے ذریعے عالمی منڈیوں میں رسائی ممکن ہو گی اس کے ذریعے ملک میں تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی تو ملک اور عوام خوشحالی اور امن واستحکام سے ہمکنار ہوں گے، چینی وزیراعظم کی آمد کے بعد 13معاہدوں پر دستخط ہونے سے دونوں ملکوں کی دوستی پر ایک اور مہر ثبت ہو گئی ہے جس سے ہمارے ملک پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور اس پر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان کا رُخ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں