54

جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نامزد

جسٹس یحییٰ آفریدی کو خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے دوتہائی اکثریت سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس نامزد کرد یا جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ آیا جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام وزیراعظم کو ارسال 26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کیلئے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہائوس کے کمیٹی روم5 میں ہوا اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے ممبران شریک نہیں ہوئے کمیٹی میں چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سیکرٹری قانون کے بھیجے گئے 3ججز کے نام پیش کئے گئے سیکرٹری قانون نے 3سینئر ترین ججز کے ناموں کا پینل کمیٹی کو بھجوایا تھا جس میں جسٹس منصور علی شاہ’ جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام شامل ہیں طویل بحث کے بعد کمیٹی نے دوتہائی اکثریت سے جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر اتفاق کر لیا اجلاس کے بعد وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام وزیراعظم کو بھیج دیا ہے اور اس کی منظوری صدر مملکت سے لی جائے گی نئے چیف جسٹس کی تقرری موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے 3روز قبل ہو گی” 26ویں آئینی ترمیم کے بعد قائم کی گئی خصوصی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے حق میں فیصلہ دیکر ان کا نام وزیراعظم کو ارسال کرد یا ہے وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد صدر مملکت کو ان کا نام بھجوایا جائے گا اور ان سے منظوری لی جائے گی کمیٹی کے بھجوائے جانے والے تین ناموں سے ایک ہی جسٹس کو چیف جسٹس بنانے کا فیصلہ کیا جانا تھا دوسرے دو سینئر ترین ججز بھی قابل احترام اور ان کی خدمات قابل تعریف ہیں جسٹس یحییٰ آفریدی کے انتخاب کے بعد ان دونوں معزز ججز کو اپنی مدت ملازمت پوری کرنی چاہیے اتحادی حکومت نے ایوان بالا میں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور کرا کے قومی اسمبلی سے بھی پاس کرائی صدر مملکت کی توثیق کے بعد یہ آئین کاحصہ بن چکی ہے آئین کے تحت کمیٹی کی سفارشات پر چیف جسٹس آف پاکستان کا نام وزیراعظم کو بھجوایا گیا صدر مملکت کی منظوری سے جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنیں گے پی ٹی آئی نے آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترمیم آزاد عدلیہ پر حملہ ہیں ان کو نہیں مانتے حزب مخالف مانے یا نہ مانے آئینی ترمیم قانون کا حصہ بن چکی ہے 26ویں آئینی ترمیم کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ میثاق جمہوریت کا ادھورا خواب پورا ہو گیا ہے محلاتی سازشوں سے وزیراعظم کو گھر بھجوانے کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا ہے آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کمپرومائز ہوئی ہے جس کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں ہے، اداروں میں بالادستی کی دوڑ نظر آتی رہی ہے مقننہ اور انتظامیہ ایک ساتھ چلتے رہے ہیں عدلیہ اس طرح سے ان کے ساتھ نہیں چل سکتی اگر وہ مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ مربوط ہو جائے تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے عدلیہ کو ان کے ساتھ ایک مناسب فاصلہ رکھنا ہوتا ہے یہ فاصلہ کبھی رکھا گیا کبھی بڑھا کبھی کم ہوا مارشل لائوں میں تو عدلیہ آمریت کے ہمقدم نظر آتی رہی ایسے چیف جسٹس صاحبان بھی آئے جو وزیراعظم اور صدر سے بھی زیادہ پاور فل نظر آئے عدلیہ کو حکومت اور اداروں اور پارلیمان کے مقابل لاکھڑا کیا آئین نے عدلیہ کو خودمختار اور مضبوط بنا دیا تھا مگر کچھ فاضل جج صاحبان آئین اور قانون کی حدود سے تجاوز کرنے لگے آئین میں ترمیم اور قانون سازی جیسے فیصلے صادر کئے گئے 26ویں آئینی ترمیم کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمے میں مدد ملے گی جبکہ آئین کی بالادستی بھی قائم ہو گی، انشاء اﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں