65

دہشتگردی کیخلاف پوری قوم کے متحد ہونیکی ضرورت (اداریہ)

ملک میں ایک بار پھر دہشت گرد سرگرم ہیں بزدل دہشت گرد سکول’ انسداد پولیو ٹیموں پر بھی وار کرنے سے دریغ نہیں کر رہے’ ملک وقوم کے محافظ سکیورٹی فورسز ادارے ان دہشت گردوں کے قلع قمع کیلئے پوری طرح چوکس ہیں اور چُن چُن کر فتنہ خوراج سمیت دیگر دہشت گردوں کو کیفرکردار پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کو گرفتار بھی کر رہے ہیں دہشت گردوں کے سہولت کار اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرنے کیلئے ہمارے ادارے مصروف عمل ہیں گزشتہ دنوں بزدل دہشت گردوں نے ضلع مستونگ میں گرلز ہائی سکول کے قریب دھماکہ کیا جس میں 9افراد جاں بحق اور 35زخمی ہوئے اس دھماکہ میں طلبہ وین بھی زد میں آئی جن میں بیٹھے 5طلبہ بھی جاں بحق ہو گئے ان طلبہ کی عمریں پانچ سے دس سال کے درمیان تھیں، پشاور کے علاقہ ریگی میں بھی دہشت گردی کی واردات ہوئی جہاں دستی بم پھٹنے سے 4بچے زخمی ہوئے” پاکستان کو کئی عشروں سے دہشت گردی کے مسئلے کا سامنا ہے جس کی ایک بڑی وجہ افغانستان پر دو بڑی طاقتوں کی یکے بعد دیگرے فوج کشی رہی تاہم پچھلی دہائی میں دو ہمہ گیر فوجی آپریشنوں کے بعد صورت حال پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا لیکن حالیہ برسوں ملک کے دو صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک بار بڑی تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے باعث غیر معمولی اقدامات کا عمل میں لایا جانا ضروری ہو گیا ہے پہلے 16دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم بچوں کے قتل عام کی ہولناک اور وحشیانہ کارروائی کے بعد پارلیمان نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں اس وقت کے تقاضوں کے مطابق ضروری ترامیم کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ مؤثر اختیارات دیئے تھے جس کے نتیجہ میں دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن قانون میں یہ ترامیم چونکہ دو سال کی مدت کیلئے تھی لہٰذا 2016ء میں 1997ء کا انسداد دہشت گردی ایکٹ اپنی ابتدائی شکل میں ازسرنو بحال ہو گیا جبکہ 3سال پہلے افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے بعد تحریک طالبان افغانستان کی حکومت کا قیام عمل میں آیا، توقع تھی کہ اس کے بعد پاکستان میں بھی امن کی راہ ہموار ہو گی لیکن نتائج اس کے برخلاف رہے اس صورت حال سے بلوچستان میں ملک دشمن طاقتوں کے آلہ کار عناصر کو بھی شہ ملی اور یوں دونوں صوبوں میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیاں روز کا معمول بن گئیں ہمیں اس دہشت گردی سے اپنے شہریوں کی قیمتی جانوں اور جائیدادوں کا نقصان تو اٹھانا ہی پڑ رہا ہے جبکہ یہ دہشت گرد چین پاکستان اقتصادی راہداری پر کام کرنے والے چینی انجینئروں اور دوسرے شہریوں کو ٹارگٹ کر کے انہیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے کی بنیاد پر چین کو پاکستان سے بدگمان کرنے کی گھنائونی سازشوں میں بھی شریک ہیں اس حوالے سے چین کی جانب سے متعدد بار پاکستان کے ساتھ تحفظات کا اظہار بھی کیا جا چکا ہے اور چینی باشندوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچا رہے ہیں اس تناظر میں دہشت گردی کا تدارک اور دہشت گردوں کو نکیل ڈالنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ملک کے اندر موجود ان عناصر سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ضروری ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کے تحت ملک کی سلامتی کو کمزور کرنے کی نیت سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں پوری قوم کو جاہیے کہ وہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افواج پاکستان اور دیگر فورسز کا بھرپور ساتھ دے ساتھ ہی ہماری ان سیاسی قیادتوں سے بھی درخواست ہے جو صرف اپنے اقتدار کیلئے کوشاں ہیں وہ بھی ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں تاکہ قیام امن کی راہ ہموار ہو سکے اور دشمنوں کو یہ پیغام ملے کہ پاکستانی قوم دشمنوں کے لیے سیسہ پلائی دیوار ہے جو بھی دشمن اس سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں