71

امیر ترین نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ

حکومت نے 27 ارب روپے مالیت کے اثاثہ جات کے حامل 5ہزار امیر ترین نان فائلرز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ان افراد کو آئندہ دو ہفتوں کے دوران نوٹس جاری کئے جائیں گے امیر ترین لوگ تین تین گاڑیوں کے مالک ہیں اور بنک اکائونٹس سے 10کروڑ سے زائد منافع حاصل کرتے ہیں اور ماہانہ دو لاکھ روپے کریڈٹ کارڈ سے خرچ کرتے ہیں، ان امیر ترین افراد کے بچے مہنگے نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وزیر مملکت خزانہ وریونیو علی پرویز ملک نے بتایا کہ ایف بی آر کا ٹرانسفارمیشن پلان تیار کر لیا گیا اور FBR کے آڈٹ اور ڈیجیٹائزیشن کی بنیاد پر دو لاکھ پوٹینشل نان فائلرز کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا گیا جن میں 5ہزار امیر ترین افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور ان سے 7ارب روپے ٹیکس ریونیو اکٹھا ہونے کی توقع ہے پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اکانومی کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت علی پرویز نے کہا کہ ایف بی آر کے ڈیجیٹائزیشن پروگرام کے ذریعے ٹیکس بیس میں توسیع ہو گی اور ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے نئے وسائل حاصل ہوں گے ٹیکس جمع کرنے میں شفافیت آئے گی،، علاوہ ازیں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ یقین دہانی کرا دی گئی ہے کہ یکم جنوری سے زرعی انکم ٹیکس بھی نافذ کر دیا جائے گا جس سے ملک میں ٹیکس وصولیوں اور ریونیو جمع کرنے میں کافی بہتری کے امکانات ہیں صوبہ کے پی کے وزیرخزانہ مزمل اسلم کے مطابق زرعی ٹیکس بہت سست روی کا شکار ہے 12970 ارب روپے کے ریونیو ہدف میں سے صرف 5ارب روپے زرعی ٹیکس آمدن کی صلاحیت موجود ہے لیکن وصولی نہ ہونے کے برابر ہے وزارت خزانہ نے صوبائی سرپلس بجٹ سے متعلق نظرثانی شدہ اعداد وشمار پیش کر کے آئی ایم ایف کو قائل کر لیا ہے اور بتایا رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں آئی ایم ایف معاہدے کے تحت مقررہ ہدف 342 ارب تھا اور صوبائی سرپلس 360 ارب روپے رہا، پنجاب حکومت کا 160 ارب روپے بجٹ خسارہ نظرثانی کے بعد 40ارب کے سرپلس میں تبدیل ہو گیا آئی ایم ایف مشن سے چیئرمین ایف بی آر اور ممبران کی بھی ملاقات ہوئی انہوں نے وفد کو 12ہزار 970 ارب روپے کا سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرنے اور معیشت دستاویزی بنانے کی حکمت عملی پر بریفنگ دی’ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے تمام فیکٹریوں اور کارخانوں میں پیداوار کی نگرانی ”ڈیجیٹل آئی” نام سے سافٹ ویئر کے ذریعے کی جائے گی آئی ایم ایف کے جائزہ مشن سے ایف بی آر اور حکومتی نمائندوں کی ملاقات کے بعد ٹیکس اہداف کے حصول کی دوڑ مزید تیز ہو گئی ہے اور حکومت نے 27ارب روپے مالیت کے اثاثہ جات کے حامل 5ہزار امیر ترین جو ٹیکس دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے کے خلاف شکنجہ کسنے کی تیاری کر لی ہے بتایا گیا ہے کہ پندرہ روز کے اندر ان امیر ترین نان فائلرز کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو گا،، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان امیر ترین فائلرز کے اتنی بڑی مالیت کے اثاثے موجود ہیں ان کے پاس کئی گاڑیاں موجود ہیں ان کے بنک اکائونٹس میں موجود رقم سے 10کروڑ سے زائد منافع حاصل کیا جاتا ہے جبکہ ان کے بچوں کے اخراجات بھی لاکھوں میں ہیں یہ بچے مہنگے ترین نجی سکولز میں زیرتعلیم ہیں حکومت نے ان تمام امیرترین لوگوں کا ڈیٹا جمع کر لیا ہے اور ان سے 7ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع کرنے کیلئے ان کو فائلرز بنایا جائے گا موجودہ حکوت ملک میں ان تمام افراد کے خلاف جو ٹیکس دینے کے قابل ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے کارروائی کا اعلان کر کے اچھا اقدام کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے افراد کیخلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنا کر ٹیکس ریونیو کے اہداف حاصل کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں