58

پنجاب میں سموگ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر (اداریہ)

سموگ کی شدت برقرار رہنے سے صوبہ میں کاروباری سرگرمیاں متاثر بزنس کمیونٹی پریشان’ حکومت پنجاب کی طرف سے سموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کئے جانے کے بعد کاروباری اداروں کی مشکلات بڑھ گئیں حکومت کی جانب سے دکانیں ریسٹورنٹ فوڈ پوائنٹس کیلئے رات آٹھ بجے بندش کے احکامات پر رات کے وقت کام کرنے والے فوڈ ریسٹورنٹ’ برگرز فروش’ بیکریز اور مٹھائی شاپس کے مالکان پر اداسی چھا گئی ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت سرکاری ونجی سکولز کو مزید ایک ہفتے کیلئے بند کر دیا گیا ہے کالجز اور یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسز ہوں گی گزشتہ دو ہفتوں سے لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں بدستور سرفہرست رہا ائیرکوالٹی انڈیکس 570 ریکارڈ کیا گیا سی ای آر پی آفس کا انڈیکس 1049 پر پہنچ گیا ملتان 338 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا لوگوں کے گھروں میں رہنے اور ماسک لگانے کی اپیلیں بے سود رہیں سکولوں سے تعطیلات کے باعث بچے سموگ سے بچنے کے بجائے گلی کوچوں میں کھیلتے نظر آ رہے ہیں والدین بچوں کو روکنے میں ناکام’ سموگ پر قابو پانے کیلئے حکومت کی طرف سے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے تاہم لگتا ہے کہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد شائد نہ ہو سکے کیونکہ موجودہ حالات میں جب بچے بڑے سب برگرز’ ونگز’ سموسے پکوڑے’ شوارما کھانے کے عادی ہو چکے ہیں ایسے سٹال اور ریسٹورنٹ 3بجے کھلتے ہیں جبکہ حکومت نے ہیلتھ ایمرجنسی میں ان دکانوں اور فوڈ پوائنٹس کو 4 بجے تک بند کرنے اور آٹھ بجے تک صرف پارسل فراہم کرنے کا حکم دیا ہے تو کیا یہ کاروباری ادارے چند صرف گھنٹوں کیلئے کام جاری رکھ سکیں گے؟ ہمارے ہاں دن کے 12بجے کے بعد بازار کھلتے ہیں اور حکومتی احکامات پر رات آٹھ بجے مارکیٹیں بازار دکانیں کیسے بند ہو سکیں گی؟ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کسی بھی افتا دیا قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کرنے کا کوئی رواج نہیں جب سر پر مصیبت آن پڑتی ہے تو ہم بھاگنا شروع کرد یتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جب حکومت کو یہ علم ہے کہ موسم سرما کی آمد سے قبل سموگ میں شدت آتی ہے تو اس کے بارے میں کوئی ٹیکنالوجی حاصل کیوں نہیں کی جاتی جس سے اس مہلک آفت سے عوام کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے پاکستان کے مقابلے میں چین یقینا ایک ترقی یافتہ ملک ہے جس نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضائی آلودگی کو سنگین ہونے سے روکا ہوا ہے جو پارٹیکولیٹ میٹر (پی ایم) کے مطابق کنٹرول میں ہے چین نے ائرکوالٹی ایکشن پلان کے تحت اخراج کے معیار’ عوامی نقل وحمل کے نظام کو بہتر بنانے کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہوا ہے پاکستان میں بھی ایسے ہی نظام کی ضرورت ہے جس کے لیے چین سے مدد لی جا سکتی ہے حکومت کو متحدہ عرب امارات سے بھی اس سلسلے میں مدد لینی چاہیے کیونکہ وہاں پر بھی فضائی آلودگی سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے جا چکے ہیں اور انہوں نے فضائی آلودگی کے خاتمہ کیلئے مصنوعی بارش برسا کر آلودگی سے چھٹکارا حاصل کیا گزشتہ دس برس سے ہمارے ہاں آلودگی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں مگر ہم اس سے چھٹکارے کے لیے کوئی قابل عمل ترکیب لانے میں ناکام رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال میں لائی جا رہی ہے پاکستان کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں’ پنجاب حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے ملک کو تعلیمی اور خاص طور پر کاروباری نقصان ہو رہا ہے ملک پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے شام کو کاروباری مراکز جلد بند ہونے سے یہ بحران مزید گھمبیر ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو ایسی صورت نکالے جس سے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کئے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں