27

گیس کے 35فیصد نئے ذخائر نجی کمپنیوں کو فروخت کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد (بیوروچیف) ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ گیس کے نئے دریافت ہونے والے ذخائر کا ایک تہائی حصہ نجی کمپنیوں کو فروخت کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحق ڈار کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے دوران کمیٹی نے سرکاری ملکیت والی گیس کمپنیوں کی جانب سے تقریبا ایک سال کی مزاحمت کے بعد یہ فیصلہ کیاکمیٹی نے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنیوں کے لیکویڈیٹی چیلنجز کو کم کرنے اور آف شور ایکسپلوریشن میں 4سے 5ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے بولی کے ذریعے نئے دریافت ہونے والے گیس کے ذخائر کا 35فیصد تھرڈ پارٹی کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نئے گیس ذخائر کی 35فیصد مقدار فروخت کرنے کی تجویز اب قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) کی ایگزیکٹو کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔کمیٹی کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اس تجویز میں پہلے سال کے لیے 10کروڑ معیاری کیوبک فٹ یومیہ کی حد شامل تھی ، جس کے بعد سالانہ جائزہ لیا جائے گا۔دوسری جانب اس تجویز پر غور کرنے اور اس کی منظوری کے لیے ایکنک کا اجلاس آج کو ہوگا۔ جنوری میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی پر مشتمل مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے ای اینڈ پی کمپنیوں کو ذخائر تیسرے فریق کو فروخت کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔سی سی آئی نے گیس کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈویژن سے کہا کہ وہ 35 فیصد غیر مختص شدہ گیس تھرڈ پارٹی کو فروخت کرنے کا فریم ورک تیار کریں اور اسے ایکنک سے منظور کروائیں تاہم اس فیصلے پر 11ماہ بعد بھی عمل درآمد ہونا باقی تھا۔سرکاری ملکی کی دو گیس کمپنیاں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ بن رہی تھیں، اور سی سی آئی کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے لابنگ کر رہی ہیں۔اجلاس کے دوران اسحق ڈار نے کہا کہ نہ تو سی سی آئی کا فیصلہ واپس لیا جاسکتا ہے اور نہ ہی آف شور بلاکس میں 4سے 5ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کو موخر کیا جا سکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) سیکٹر کو درپیش چینلجز سے نمٹنے کے لیے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں