57

قومی یکجہتی وقت کا تقاضا (اداریہ)

ملکی معیشت جب بھی بہتری کی جانب گامزن ہوتی ہے پی ٹی آئی قیادت اسے سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہو جاتی ہے اس سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان کے خدشات سر اٹھانا شروع کر دیتے ہیں ہم تو پہلے ہی معاشی طور پر سنبھل نہیں سکے پی ٹی آئی نے 14دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں بیرون ملک پاکستانیوں سے ترسیل زر وطن نہ بھیجنے کی اپیل کی جائے گی واضح رہے کہ سول نافرمانی تحریک حکومتی احکامات نہ ماننا اور شہریوں کو حکومت کے خلاف اکسانے سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر اپنے وطن پر بھیجنا بجلی گیس اور ٹیکسز کی ادائیگی نہ کرنا شامل ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ترسیلات زر ملکی معیشت مین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور معیشت کا زیادہ تر دارومدار ترسیلات زر پر ہوتا ہے لیکن اگر یہ بند ہو جائیں تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا نہیں جا سکتا عمران خان کا حالیہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ دنوں ان پر GHQ حملہ کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کے باعث مالی سال 2022-23ء کی 27.3ارب ڈالرز ترسیلات زر کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال 2023-24ء کے دوران 30.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں اس طرح ترسیلات زر میں 3ارب ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ مالی سال 2024-25 کے ابتدائی 5ماہ میں جولائی سے نومبر کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 33فیصد سے زائد 14.8 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اپنے وطن بھیجیں اگر اس تناسب سے دیکھا جائے تو مالی سال کے اختتام تک مجموعی ترسیلات زر 35ارب ڈالرز سے تجاوز کر جائیں گی واضح رہے کہ بیرون ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات زر کا بڑا حصہ سعودی عرب’ یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی ورکرز کی جانب سے موصول ہوتا ہے جس سے ملک کی معیشت کو تقویت حاصل ہوتی ہے مگر پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک جلانے کا اعلان ملک کی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے پہلے بھی پی ٹی آئی قیادت نے 2014ء میں نواز شریف دور میں عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے اور وزیراعظم سے استعفےٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا اس ومقع پر عوام کو بجلی گیس کے بل ادا نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز کو جلایا گیا تھا مگر یہ دھرنا اور عمران خان کی سول نافرمانی کی اپیل ناکامی سے دوچار ہوئی اب ایک بار پھر سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے جس پر وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سول نافرمانی ملک دشمنی’ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے شرپسندوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ ترسیلات زر میں اضافہ اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے” بلاشبہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کا ہونا ناگزیر ہے درست ہے مگر بعض سیاسی حلقے ملک میں سیاسی عدم استحکام نہیں ہونے دے رہے جن میں پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت سرفہرست ہے ہمارے ملک کو افراتفری فساد اور انتشار کی سیاست سے بہت نقصان پہنچا ہے ایسی سیاست کی حوصلہ شکنی ضرور ہونی چاہیے 9مئی کو پورے ملک کیلئے افسوس اور صدمے کا باعث بنا ہوا ہے 26نومبر کے واقعات کی تپش ہر جگہ محسوس کی جا رہی ہے اور اب سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی باتیں ہو رہی ہیں سیاسی محاذ آرائی کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانا اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا سیاسی دانشمندی نہیں لہٰذا اپوزیشن کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ملک ہے تو ہم سب ہیں اس وقت یکجہتی وقت کا تقاضا ہے اگر ہم نے وقت کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق چلنے میں مزید تاخیر کی اور انتشار کی سیاست کو جاری رکھا تو بہت نقصان ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں