64

حکومت اور PTI میں مذاکرات پر آمادگی’ خوش آئند پیش رفت (اداریہ)

حکومت اور PTI کے درمیان رابطے ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں باقاعدہ مذاکرات کا امکان ہے، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے رابطہ کر کے سیاسی صورتحال پر بات چیت کی ہے، ابتدائی ملاقات میں PTI اور حکومت میں مذاکرات میں متعلق گفتگو متوقع ہے، حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان موجودہ ڈیڈلاک کو ختم کرنے پر آمادگی کا اظہار اچھی بات ہے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنا ایک بہترین ذریعہ ہے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ لشکرکشی چھوڑ کر پارلیمان میں آنے کو ترجیح دینے پر عمر ایوب کو سراہتا ہوں’ اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے فلور پر آ کر بات شروع کرنا احسن اقدام ہے، اچھا ہوا کہ انہوں نے پارلیمان میں آنے کو ترجیح دی اور یہاں پر بات کرنا شروع کی’ عوام نے ہمیں مینڈیٹ بھی اسی چیز کا دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات سنیں اور سمجھائیں، یہاں بات زیادہ بہتر طریقے سے پہنچتی ہے، حکومت اور PTI کے درمیان رابطوں سے دونوں میں افہام وتفہیم پیدا ہونا یقینی ہے، دونوں اطراف سے اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیں تاکہ پاکستان ترقی کرتے ہوئے خوشحالی کی منزل پر پہنچ جائے، مذاکرات کے دوران کبھی اتفاق اور اختلافات ہو جاتا ہے، دعا ہے کہ زیادہ باتوں پر اتفاق ہو’ PTI کے رہنما اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے مذاکرات کے باضابطہ آغاز پر تبادلہ خیال کیا ہے اور مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے تفصیلات پر غور ہوا’ مذاکرات کے لیے ملاقات کے حوالے سے تاحال کسی وقت کا تعین نہیں ہو سکا، PTI کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہم ایوان سے انصاف لینا چاہتے ہیں، مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ جتنی غلطیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جائے، یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اور PTI نے مذاکرات کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، حکومت ہو یا اپوزیشن’ دونوں کو عوام ہی منتخب کرتے ہیں اور دونوں کی کوشش ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی ہی ہونی چاہیے، دونوں کی حکمت عملی میں اختلاف ہو سکتا ہے جسے مذاکرات کے ذریعے اتفاق ومفاہمت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اس لئے مذاکرات کے عمل کو قومی مفاہمت کی جانب اہم قدم قرار دیا جائے تو بیجانہ ہو گا اور اب دونوں کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے، حکومت اور PTI کو مذاکرات کے دوران انہیں نتیجہ خیز بنانے پر مکمل توجہ مرکوز رکھنا ہو گی اور ماضی کی تلخیوں کو اس میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیے، مذاکراتی عمل کے مثبت فوائد حاصل کرنے کیلئے ان لوگوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو ہمہ وقت اشتعال انگیزی اور الزام تراشی کرتے رہتے ہیں لہٰذا انہیں ایسی باتوں سے اجتناب کرنے کی ہدایت کرنا چاہیے تاکہ اس قسم کی بیان بازی سے مفاہمتی عمل کو نقصان نہ پہنچے، سیاست میں مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل کرنا جمہوری طریقہ ہے اور ہمیں جمہوری اقدار کی پاسداری کرنی چاہیے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب مذاکرات کے عمل میں تعطل پیدا ہو جائے تو جمود کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس سے سیاسی بحرانوں کے پیدا ہونے اور معاشی عدم استحکام کا خدشہ ہوتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی فہم وفراست کام لیتے ہوئے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام پیدا ہو سکے، یقینی طور پر اس سے درپیش مسائل ومشکلات حل ہونگی اور ملک وقوم کو ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں