56

مہنگائی میں کمی کی کوششیں کامیاب (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں اور ایس ایف سی کے تعاون سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے معاشی حالات میں بہتری کے باعث نومبر 2024ء میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.9فی صد پر آ گئی ہے ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2024ء میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اکتوبر 2024ء میں یہ شرح 7.2فیصد تھی اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال 2023ء نومبر میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد تھی جبکہ نومبر 2024 میں شہری علاقوں میں مہنگائی 5.2فی صد اور دیہی علاقوں میں 4.3فی صد ریکارڈ کی گئی افراط زر میں مسلسل کمی صارفین اور معیشت پر دبائو کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے جبکہ خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی نے مہنگائی کو کم کرنے میں بھی مدد دی پالیسی سطح پر کئے گئے اقدامات کی بدولت افراط زر کی شرح کم ہونے سے معاشی استحکام کو فروغ ملا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اونچی اڑان کا سلسلہ جاری ہے ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ عام استعمال کی چیزیں مثلاً چکن’ دال ماش’ سبزیاں’ پھل’ گڑ’ دال چنا’ دال مسور’ چاول’ پیاز’ مصالحہ جات کے نرخوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں مزید 2فی صد کمی کے بھی کاروباری اداروں پر اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں مہنگائی کی شرح کم ترین سطح پر پہنچنے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل کمی عام آدمی کے لیے براہ راست فائدہ مند ہے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکائونٹس پر جاری کئے گئے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی معیشت مستحکم ہے سفارتی تعلقات مضبوط ہیں اور عام آدمی کی خوشحالی کی جانب سفر شروع ہو چکا ہے انشاء اﷲ ملک کو معاشی طور پر مزید مضبوط بنائیں گے،، مہنگائی کا کم ترین سطح پر آنا ملک کے لیے اچھی خبر ہے 2018ء میں نواز شریف کے دور حکومت میں مہنگائی 3.5فیصد تھی اس مہینے میں یہ 4.9 پر پہنچی ہے مہنگائی میں کمی سے غریب آدمی کی زندگی میں آسودگی آتی ہے سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں مزید 2فی صد کمی اور ترسیلات زر میں اضافہ بھی خوش کن ہے اکتوبر 2024ء میں جاری کھاتہ مسلسل تیسرے مہینے فاضل رہا اسٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر 12ارب ڈالر تک پہنچ گئے جولائی تا اکتوبر 2024ء کے دوران برآمدات میں 8.7 فیصد اضافہ ہوا اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی کے اثرات سامنے آئے اور ملک میں جاری مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی جو خوش آئند ہے،، گزشتہ دس برسوں کے دوران مہنگائی نے ملک کے عوام کا جو حال کیا وہ شائد پہلے کبھی سامنے نہیں آیا غریب تو غریب متوسط طبقہ بھی رُل گیا عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا اور وہ اپنے مسیحا کی تلاش میں تھا مگر ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا اور یوں مہنگائی مافیا اپنی من مانیوں میں مصروف رہا حکومت اپنے دھیان میں لگی رہی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی کو مہنگائی نے شدید متاثر کیا خدا خدا کرکے ملک میں نئے الیکشن ہوئے تو اتحادی حکومت نے اقتدار میں آ کر سب سے پہلے ملکی معیشت کی بحالی کیلئے کوششیں شروع کیں کم وبیش گیارہ ماہ کے قلیل عرصہ میں حکومت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور بتدریج مہنگائی پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی 2023ء کی نسبت آج مہنگائی میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے جو یقینا قابل ستائش ہے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کی کابینہ کی کوشش رنگ لائیں ہیں اور مہنگائی کم ہو رہی ہے عوام کو امید ہے کہ موجودہ حکومت عام آدمی کی زندگی سنوارنے کیلیے معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے کوششیں کر کے مہنگائی کو کم کرنے کیلئے مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں