102

مدارس رجسٹریشن ایکٹ نافذ (اداریہ)

دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ افہام وتفہیم سے حل کر لیا گیا ہے قانون کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہو گی صدر آصف علی زرداری نے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 2024ء پر دستخط کر دیئے جس کے بعد مدارس رجسٹریشن کا بل قانون بن گیا بل کے مشن کے مطابق کوئی مدرسہ عسکریت پسندی’ شدت پسندی’ مذہبی منافرت پر مبنی مواد شائع کرے گا نہ پڑھائے گا ہر مدرسہ اپنے حسابات کا سالانہ آڈٹ رپورٹ جمع کرانے کا پابند ہو گا مدارس اپنی مرضی سے وزارت صنعت وپیداوار یا وزارت تعلیم سے رجسٹر ہو سکیں گے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مدارس بل کی منظوری پر تمام دینی طبقے بالخصوص اتحاد تنظیمات مدارس اور وفاق المدارس العربیہ کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل کو قانون کا درجہ ملنا پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کی سپریمیسی کی جنگ جیت ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے دینی مدارس ترمیمی بل ایکٹ کے مطابق جو مدارس سوسائٹیز رجسٹریشن بل کے نفاذ سے پہلے قائم ہوئے وہ چھ ماہ میں رجسٹریشن کروائیں اور جو دینی مدارس اس بل کے بعد قائم ہوئے وہ ایک سال میں رجسٹریشن کروائیں، بل کے متن کے مطابق جن دینی مدارس کے ایک سے زیادہ کیمپس ہیں انہیں صرف ایک رجسٹریشن کی ضرورت ہو گی اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے بعد دینی مدرسے کو کہیں اور سے رجسٹر کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی علاوہ ازیں ترجمان جے یو آئی ف نے کہا ہے کہ جدوجہد رنگ لے آئی، مدارس ایکٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے پر اﷲ کے حضور سجدہ شکر کرتے ہیں مدارس کے خلاف ہر سازش ناکام بنائیں گے مدارس دینیہ اسلام کے قلعے اور پاکستان کے نظریاتی جغرافیے کے محافظ ہیں علاوہ ازیں پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے صدر مملکت کی جانب سے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 2024 پر دستخط پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدارس رجسٹریشن پر اتھارٹی آرڈی نینس کے بعد مسئلہ حل ہو گیا اختلاف کی صورت حال ختم ہو گئی انہوں نے کہا کہ مدارس وزارت تعلیم اور سوسائٹیز ایکٹ دونوں میں رجسٹر ہو سکتے ہیں حکومت نے مدارس کی آزادی کی خودمختاری میں کوئی مداخلت نہیں کی،، خدا خدا کر کے مدارس رجسٹریشن معاملہ حل ہوا اور حکومت اور علماء کے درمیان کشمکش کا خاتمہ ہو گیا جو خوش آئند ہے گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے انہیں مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی قبل ازیں جب سینیٹ اور قومی اسمبلی سے مدارس ترمیمی بل پاس کرایا گیا تو علماء اور حکومت کے مابین کشمکش شروع ہو گئی تھی صدر نے بل پر اعتراضات کئے تھے تاہم اس حوالے سے معاملہ حل کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں اور بالآخر یہ مسئلہ حل ہو گیا صدارتی آرڈیننس کے بعد مدارس رجسٹریشن ایکٹ نافذ العمل ہو چکا ہے اور اب کوئی بھی مدرسہ رجسٹریشن کے بغیر نہیں چلایا جا سکے گا، مدارس رجسٹریشن معاملے کو حل کرنے کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کو جاتا ہے جن کی کوششوں سے کامیابی حاصل ہوئی اس وقت حکومت قومی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہے مدارس رجسٹریشن کا مسئلہ حل ہو چکا اب حکومت کو اپوزیشن سے بامقصد مذاکرات کر کے اپوزیشن کو بھی مطمئن کرنا چاہیے تاکہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کھینچا تانی بھی ختم ہو اور دونوں اطراف خوشگوار تعلقات کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کئی سالوں سے سیاسی عدم استحکام چلا آ رہا ہے اپوزیشن میں نہ مانوں کی رٹ لگا رہی ہے حکومت کی جانب سے مذاکرات کو ٹھکرا رہی ہے اب جبکہ پوزیشن نے حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادگی کا اظہار کر دیا ہے تو حکومت کو بھی اپوزیشن کے جائز مطالبات کو مان کر مسائل میں کمی لانے کی کوشش کرنی چاہیے اپوزیشن کو بھی ایسے مطالبات سے جو عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اور ان کا فیصلہ صرف عدالتوں نے کرنا ہے سے دستبردار ہو جانا چاہیے اسی صورت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں پی ٹی آئی قیادت کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مسائل پر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اگر ایسا ہو جائے تو نہ صرف سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہو گا بلکہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں بھی مدد مل سکے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ پارلیمنٹ میں اپنے تمام معاملات حل کرے اور ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں