50

اپوزیشن’ حکومت مذاکرات نتیجہ خیز ہونے ضروری (اداریہ)

اس وقت ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات ہو رہے ہیں تاہم ابھی ان کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے نہیں آئے دونوں فریقین کی جانب سے موقف دیئے جا رہے ہیں قوم کو امید ہے کہ سیاسی عدم استحکام جلد سیاسی استحکام میں بدل جائے گا دراصل اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین تحمل برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنجیدگی اختیار کریں مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے دونوں فریقین کو دل بڑا کرنا ہو گا یوں لگتا ہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی مذاکرات کی میز پر کچھ ہارنا نہیں چاہتا بلکہ دونوں ہی اس تاک میں ہیں کہ جیت ان کی ہو اور اسی وجہ سے ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنا نظر نہیں آ رہا مذاکرات میں سنجیدگی کی پہلی علامت’ موقف میں نرمی ہو گی’ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ اپوزیشن تند وتیز گفتگو میں اپنے ایسے مطالبات دہراتی جائے جن کو فوری طور ماننا ناممکن ہو کیونکہ پی ٹی آئی کے بہت سے معاملات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اور اس وقت تک حکومت کچھ نہیں کر سکتی جب تک عدالتوں سے فیصلے نہیں آ جاتے’ مذاکرات کے لیے ماحول بنانا پڑتا ہے ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے بات نہیں بنتی لچک ہی مذاکرات کی کامیابی کو یقینی بناتی ہے” جب دونوں فریقین صرف اپنی جیت کے خواہش مند ہوں تو مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ایک طرف ملٹری کورٹس سزائیں سنا رہی ہوں اور دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کہہ رہے ہوں کہ مذاکرات کے دوران ترسیلات زر بند کرنے کی مہم جاری رہے گی تو مذاکرات کی کامیابی کا کوئی روشن امکان نظر نہیں آتا سب کی خواہش ہے کہ ورکنگ ریلیشن ہو سب کی خواہش ہے کہ سیاسی استحکام آئے سب کی خواہش ہے کہ روز روز کے دھرنے اور اسمبلی کے اندر ہنگامے ختم ہوں لیکن ان تمام خواہشوں کے باوجود اگر کوئی فریق لچک دکھانے سے انکار کرے گا تو مذاکرات تو بے نتیجہ ہی رہیں گے لہٰذا جب تک اختلافات بھلائے نہیں جائیں گے سیاسی کشمکش کم نہیں ہو گی اگرچہ فی الحال مذاکرات کی کامیابی کا امکان کم ہے کوئی بڑا ریلیف بھی کسی فریق کو ملنے والا نہیں کئی بار مذاکرات تعطل کا شکار ہوں گے مگر پھر بھی مذاکرات ہی واحد حل ہیں پاکستان کے مستقبل کی تاریخ میں لڑنے والوں کا نہیں صلح کروانے والوں کا نام ہی سنہری حروف میں لکھا جائے گا آج کسی ایسے سیاستدان کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو اپنی سیاسی بصیرت سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان پل کا کام کرے اور کسی ایسے نتیجہ پر مذاکرات کو پہنچانے کیلئے کردار ادا کرے جس سے مثبت نتائج سامنے آ سکیں یہ درست ہے کہ عمران خان مسلسل جنگجو رہے ہیں ماضی میں بھی مزاحمت اور جلوس ودھرنوں کی سیاست کر تے رہے ہیں لیکن حالیہ دو برسوں میں انپا کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کر سکے بلکہ الٹا یہ ہوا کہ ان کی ساری چالیں الٹا پڑ گئیں 9مئی ہو 8فروری ہو یا پھر 26نومبر وہ جو بھی چاہتے تھے وہ نہ ہو سکا اور آج کی صورتحال یہ ہے کہ وہ مقبول ہونے کے باوجود پہلے معزول ہوئے پھر انہیں قبولیت سے محروم ہونا پڑا ایسے میں انہیں معقولیت سے وقت پاس کرنا چاہیے تھا مگر وہ اس سے الٹ راستے پر چل نکلے اور مزید مشکلات کا شکار ہوتے چلے گئے اگر وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر نظام کا حصہ رہتے تو وہ ایک بار قومی سیاست میں ابھر سکتے تھے مگر ان کے مشیروں اور ساتھیوں نے ان کو صحیح گائیڈ نہیں کیا اور وہ مٍشکلات سے باہر نہیں آ سکے اب جبکہ انہوں نے اپنی پارٹی کے راہنمائوں کو مذاکرات کی اجازت دی ہے تو ان کو حکومت وقت کے ساتھ بامقصد اور مثبت مذاکرات کرنے کیلئے ہدایات جاری کریں اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے تو ممکن ہے بانی پی ٹی آئی کے لیے کچھ نئے مسائل پیدا ہو جائیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی پارٹی راہنمائوں کو سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات پر توجہ دینے کیلئے کہیں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں