52

تیل اور گیس کمپنیوں کی مالی پوزیشن کمزور (اداریہ)

وفاقی وزارت خزانہ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور سوئی سدرن’ سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کے مالیاتی نظام کو غیر مؤثر قرار دے دیا وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ان تیل وگیس کمپنیوں کا انفراسٹرکچر وقیانوسی اور غیر مؤثر ہو چکا ہے جس کی وجہ سے تمام 5کمپنیوں کو چیلنجز کا سامنا ہے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی پی ایل کے وصولی کے ایشوز نے ان کی مالی پوزیشن کو کمزور کیا جس کی وجہ سے ان کا حکومت کی مالی سپورٹ پر انحصار بڑھا ہے انرجی سیکٹر میں گردشی قرضے کے باعث کیش فلوز کے مسائل پیدا ہو گئے اور عدم ادائیگیوں کے باعث واجبات بڑھ گئے جس سے لیکوڈیٹی متاثر ہو رہی ہے وزارت خزانہ کے مطابق واجبات بڑھنے سے کمپنیوں کی معاشی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئے اور سرکاری اداروں کا حکومتی سپورٹ پر انحصار بڑھ گیا ہے پرانی ٹیکنالوجی کے باعث پیداوار کم اور آپریشنل لاگت زیادہ ہے گیس کے ترسیلی اور تقسیم نظام میں لاسز کا سامنا ہے بزنس پلان کے ذریعے ریونیو لاسز محدود اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے مالیاتی نظام کو بہتر بنا کر گردشی قرضے کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے،، وزارت خزانہ کی جانب سے ملک کے اہم ترین سیکٹر میں مالیاتی نظام کے غیر مؤثر ہونے کی نشاندہی کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس کے بعد ان اداروں کو اپنے اندر پائی جانے والی خرابیوں’ کوتاہیوں کو دور کرنا چاہیے ان کمپنیوں کے انفراسٹرکچر پر بھی وزارت خزانہ نے سوال اٹھائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اداروں میں پلاننگ کی کمی ہے دقیانوسی اور غیر مؤثر نظام کے باعث کمپنیوں کو مالی کمزوری کا سامنا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے گیس کمپنیوں نے گزشتہ دو تین برس کے دوران کمرشل وگھریلو گیس صارفین کیلئے گیس انتہائی مہنگی کی مگر اس کے باوجود بھی یہ کمپنیاں اگر مالی کمزوری کا شکار ہیں تو یقینا ان کمپنیوں میں بدنظمی پائی جاتی ہے اس کے علاوہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے بھی پٹرول’ ڈیزل’ مٹی کے تیل کے نرخوں میں اضافہ کر کے پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والے صارفین کو تگنی کا ناچ نچایا ہے اس کے باوجود اس لمیٹڈ ادارے کی مالی حالت بھی پتلی ہے جو سمجھ سے باہر ہے آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کی جانب سے ہر پندرہ روز بعد پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی بیشی کا اعلان کیا جاتا ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی جاتی ہو جبکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ صارفین کیلئے بُری خبر ہی آتی ہے کہ پٹرول’ ڈیزل’ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کر دیا گیا ہے اس کے باوجود یہ ادارہ بھی مالی طور پر کمزور ہے! گیس کمپنیوں نے اب تو گیس صارفین کیلئے گیس فراہمی کا شیڈول بنا لیا ہے اور دن میں تین مرتبہ 3،3 گھنٹوں کیلئے گیس فراہم کی جاتی ہے جبکہ اب تو گرمیاں ہوں یا موسم سرما گیس کمپنیوں نے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ جب چاہا گیس کے پریشر میں کمی کر دی جب چاہا گیس بند کر دی گھریلو صارفین کی عموماً یہ شکایت رہتی ہے کہ گیس کمپنیاں گیس فراہمی کے شیڈول کا بھی خیال نہیں کرتیں اور 3گھنٹے کے بجائے صرف ایک گھنٹہ کیلئے گیس فراہم کی جاتی ہے اور اکثر گھروں کے افراد بیکریوں’ ہوٹلز’ تندوروں سے روٹی سالن اور ناشتہ کا سامان لانے پر مجبور ہوتے ہیں گیس نرخوں میں من مانے اضافے کے باوجود گیس کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے مگر گیس کمپنیاں پھر بھی خسارے کا شکار ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان اداروں کے مالی نظام کو بھی جدید نظام سے منسلک کر کے ان کو مالی مشکلات سے نکالے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں