48

وزیراعظم کی انسانی اسمگلرز کو نشان عبرت بنانے کی ہدایت (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں تمام انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ وہ نشان عبرت بنیں’ وزیراعظم ہائوس سے جاری بیان کے مطابق اپنی زیرصدارت ملک میں انسانی اسمگلنگ کے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف لئے گئے حالیہ اقدامات پر ایف آئی اے کے کام کو سراہا وزیراعظم نے کہا انسانی اسمگلروں کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف حالیہ تادیبی کارروائیوں کا آغاز خوش آئند ہے، سہولت کاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے بعد سخت تعزیری اقدامات بھی لئے جائیں تاکہ ان لوگوں کے خلاف شکنجہ کسا جا سکے انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کے لیے فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کے خلاف استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے وزارت قانون وانصاف سے مشاورت کے بعد اعلیٰ ترین درجے کے وکلاء تعینات کئے جائیں دفتر خارجہ بیرون ملک سے انسانی اسمگلنگ کا دھندہ چلانے والے پاکستانیوں کے لیے متعلقہ ممالک سے رابطہ کرے اور ان کی پاکستانی حوالگی کے حوالے سے جلدازجلد اقدامات اٹھائے ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے افراد کی سکریننگ کا عمل مزید بہتر بنایا جائے اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف لئے گئے اقدامات’ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی پیش رفت اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،، وزیراعظم شہباز شریف کی انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کی جائیدادیں ضبط’ نشان عبرت بنانے اور سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی ہدایت وقت کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں انسانی اسمگلرز نے دولت کی خاطر کئی ہنسے بستے گھر اُجاڑ دیئے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے والے انسانی سمگلرز کسی رعایت کے مستحق نہیں ان کو نشان عبرت بنانا اشد ضروری ہے تاکہ وہ اس مکروہ دھندہ سے باز رہ سکیں انسانی اسمگلنگ کی باقاعدہ ایک چین ہے جس میں بعض سرکاری افسران بھی ملوث ہیں اور وہ اپنے سرکاری اختیارات استعمال کر کے انسانی اسمگلرز کو فائدہ پہنچا کر اپنی تجوریاں بھرتے رہے ہیں اس دھندے میں سہولت کاری کرنے والے بعض سرکاری افسران کے گرد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کارروائیاں کی ہیں جس کو وزیراعظم نے سراہا ہے جبکہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں تمام انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کے خلاف بشمول اس دھندے میں سہولت کاری کرنے والے سرکاری افسروں کو بھی نشان عبرت بنایا جائے وزیراعظم نے دفتر خارجہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بیرونی ممالک سے رابطے کر کے مکروہ دھندہ چلانے والے پاکستانیوں کی حوالگی کے اقدامات کرے تاکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے کئی برسوں سے انسانی اسمگلنگ کا مکروہ دھندہ جاری ہے جس پر کسی بھی حکومت نے سخت کارروائی کی اور نہ ہی گروہ کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے کوئی قانون سازی کی موجودہ حکومت نے اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر اور ان کو سہولت مہیا کرنے والے سرکاری افسروں کے خلاف بھی ڈنڈا اٹھایا ہے جس پر حکومت خراج تحسین کی مستحق ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کام کو ادھورا نہ چھوڑا جائے اور تمام سرکاری ادارے وزیراعظم کی ہدایت پر عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی اسمگلنگ کے دھندہ میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں مل سکیں بھولے بھالے اور سادہ لوح افراد کو غیر قانونی طریقہ سے بیرون ممالک بھیجنے اور ملازمتیں دلانے کے سبز باغ دکھا کر لاکھوں روپے بٹورنے والے انسانی سمگلرز اپنے انجام کو پہنچ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں