45

پاکستانی تجارتی وفد کا 12سال بعد بنگلہ دیش کا دورہ (اداریہ)

ویزا شرائط میں نرمی کے بعد پاکستانی تجارتی وفد 12سالوں کے بعد بنگلہ دیش پہنچ گیا، پاکستانی وفد کی بنگلہ دیشی وزیر’ ایڈوائزر برائے تجارت کامرس بشیر الدین سے ملاقات’ وفد میں سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں بھی شامل ہیں صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کی زیرصدارت پاکستانی تجارتی وفد کا دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور’ عاطف اکرام نے کہا کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے آزمائش کے ہر موقع پر بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہوں گے عاطف اکرام نے بتایا کہ بنگلہ دیش وزیر تجارت نے پاکستان سے تجارتی تعلقات کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ہم بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزا شرائط میں نرمی کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستانی بزنس کمیونٹی کو لانگ ٹرم ویزے دیئے جائیں پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کے لیے ویزا شرائط میں نرمی کر دی ہے بنگلہ دیش کے وزیر اور ایڈوائزر برائے کامرس شیخ بشیر الدین نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مل کر اقتصادی’ معاشی’ سرمایہ کاری’ انڈسٹریل’ کاروباری اور تجارتی مواقع تلاش کریں گے باہمی تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے ہم پاکستانی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید احمد معروف بھی اس ملاقات میں موجود تھے،، پاکستان کے تجارتی وفد کا 12سال بعد بنگلہ دیش کا دورہ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی روابط بڑھانے کیلئے خوش آئند ہے تجارتی وفد کی بنگلہ دیش کے وزیر برائے تجارت کی جانب سے پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافہ کا خواہاں ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال خان نے لاہور میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام پاکستانی عوام سے محبت کا رشتہ رکھنا چاہتے ہیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بڑھانا وقت کا تقاضا ہے بنگلہ دیشی عوام پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں دونوں ممالک کو اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنا ہو گا ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش نے پاکستانیوں کے لیے ویزا شرائط بہت آسان کر دی ہیں اور اب پاکستان کے شہری بنگلہ دیش کا ویزا آن لائن حاصل کر سکتے ہیں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اسلام کا رشہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا” بنگلہ دیش کبھی پاکستان کا حصہ ہوا کرتا تھا پاکستان کے دشمنوں نے سازشوں کے ذریعے الگ کر دیا بنگالیوں کے دلوں میں پاکستان کیخلاف نفرت پیدا کی گئی شیخ مجیب الرحمان نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کرنے میں کردار ادا کیا تھا اس کے بعد اسکی بیٹی نے اس نفرت کی آگ کو ہوا دی حسینہ واجد ملک سے فرار ہو چکی ہیں اور بھارت کی گود میں بیٹھی ہیں بنگلہ دیش کے عوام کو اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان کے ساتھ رہ کر وہ مطمئن تھے اب جبکہ بھارت نواز حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے قریب آنے کا موقع ہے جس کا دونوں ملکوں کو ادراک ہے بھارت کی جانب سے ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جاتی رہیں 50سال بعد بنگلہ دیش میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہوا ہے بھارت خطے میں تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے، ایک تو بنگلہ دیش پاکستان کا برادر ملک ہے اس حوالے سے بھی دونوں کے مابین فطری قربت ہو سکتی ہے دوسرا خطے میں توازن کے لیے بھی دونوں کے مابین تعلقات کا خوشگوار ہونا ضروری ہے پاکستان نے ہمیشہ بنگلہ دیش کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے پاکستان اور بنگلہ دیش 12برس بعد قریب آ رہے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملک تجارتی تعاون کو وسعت دیں تاکہ تجارتی تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتوں کے مواقع بھی حاصل ہو سکیں اور دشمنان کی طرف سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پھیلائی گئی نفرتوں کو کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں