54

کرنٹ اکائونٹ پانچویں مرتبہ سرپلس (اداریہ)

پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ مسلسل تیسرے ماہ اور پانچویں بار سرپلس ہو گیا، اسٹیٹ بنک کے مطابق دسمبر 2024ء میں ملکی کرنٹ اکائونٹ 58کروڑ 20لاکھ ڈالر سرپلس رہا ہے رواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا توازن 1.21 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، دسمبر 2023ء کے مقابلے میں دسمبر 2024ء میں ملکی کرنٹ اکائونٹ میں 109 فی صد اضافہ ہوا ہے اسٹیٹ بنک کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 5.8 فیصد بڑھی ہے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مثبت اشاریے کاروباری برادری کے حکومت اور اس کی معاشی پالیسیوں میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہیں وزیراعظم نے کہا اکتوبر’ نومبر اور دسمبر 2024ء میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ مسلسل سرپلس رہنا معاشی پالیسیوں کی درست سمت ہونے کی سند ہے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 1.2 ارب ڈالر سرپلس تھا، رواں مالی سال میں سرپلس کو مزید بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں ”اڑان پاکستان” جیسے پروگرام سے ملکی معیشت کو مزید تقویت ملے گی اسٹیٹ بنک کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 1.329 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20فیصد زیادہ ہے، دسمبر 2024ء میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 170 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو دسمبر 2023ء کے مقابلے میں 33 فیصد کم ہے دسمبر 2023ء میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 252 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں ماہانہ بنیاد پر 23فی صد کمی ریکارڈ کی گئی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی سرمایہ کاری مالیت 155 ارب بڑھ گئی جو خوش آئند ہے اور یہ موجودہ حکومت کا بڑا کریڈٹ ہے علاوہ ازیں تحریک انصاف کے بانی کو رہائی کے امکانات ختم ہونے کے باعث سرمایہ کاروں میں اعتماد میں اضافہ ہوا کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی بڑی لہر’ کے ایس سی 100 انڈیکس میں 1435 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ’ ایک لاکھ 14ہزار اور 15ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی پاکستان کا کرنٹ مسلسل تیسرے ماہ اور پانچویں بار سرپلس ہونا اس بات کی طرف سے اشارہ ہے کہ پاکستانی حکومت کی معاشی پالیسیاں درست اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے بیرونی واندرونی سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور اس حوالے سے کاروباری برادری میں اطمینان پایا جانا دراصل حکومت پر بھرپور اعتماد ہے وزیراعظم محمد شہباز شریف’ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی کوشش رنگ لا رہی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اب ملک معاشی میدان میں مزید آگے بڑھے گا تین ماہ کے دوران کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہونے کی خبروں سے سرمایہ کاری کرنے والوں کے حوصلے بڑھائے ہیں اور ملک میں اب کاروباری سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے بیرونی سرمایہ کاروں کی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے جس سے آنے والے وقتوں میں ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے کاروباری سرگرمیوں کے بڑھنے سے ملک میں خوشحالی اور ترقی کا خواب پورا ہو گا، وزیراعظم شہباز شریف کا اڑان پاکستان پروگرام ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس پروگرام کے تحت 2035ء تک ملکی معیشت کا حجم ایک کھرب ڈالر اور 2047ء تک 3کھرب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے پانچ سیکٹرز انفارمیشن ٹیکنالوجی’ مینوفیکچرنگ زراعت’ معدنیات’ افرادی قوت اور بلیو اکانومی کے فروغ سے برآمدات کو سالانہ 60ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے علاوہ ازیں اس پروگرام کے تحت اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو مستحکم کرنے’ درآمدات پر انحصار کم کرنے اور پائیدار ترقی کے اقتصادی امکانات کو بڑھانے کیلئے ”میڈان پاکستان” مصنوعات کو عالمی معیار کے طور پر برانڈ کرنے کیلئے کام کیا جائے گا، بلاشبہ اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ملک کو معاشی قوت بنانے کا جو روٍڈ میپ بنایا گیا ہے اس پر عمل کر کے واقعی پاکستان عالمی طور پر معاشی قوت بن کر ابھر سکتا ہے دس سالہ پروگرام سے ان دیرینہ خوابوں میں حقیقی رنگ بھرا جا سکتا ہے جو قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھتی چلی آ رہی ہے اﷲ کرے وہ وقت بھی آئے جب ہم اپنی آنکھوں سے اپنے وطن عزیز کو ترقی کی منزلیں حاصل کرتا دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں