96

حکومت کی معاشی پالیسیوں کے ثمرات ملنا شروع (اداریہ)

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کے ثمرات حاصل ہونا شروع ہو گئے ہیں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے معاشی ٹیم سرخرو رہی اور پاکستان پر ڈیفالٹ کے بادل چھٹ گئے جس کا کریڈٹ بلاشبہ وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم کو جاتا ہے شہباز شریف اپنی مفاہمتی پالیسیوں کیلئے بڑی شہرت رکھتے ہیں ان کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد سیاسی استحکام’ معاشی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا رہا ہے وہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون اور ڈائیلاگ کے ہمہ وقت حامی ہیں اور سیاسی تنازعات کو مذکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہیں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کو میثاق معیشت کی دعوت دی اس کا مقصد جمہوری نظام کو مستحکم کرنا اور معیشت کو مضبوط بنانا تھا آٹھ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر وزیراعظم کا انتخاب جیتا اور عہدہ سنبھالا انہوں نے اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعد یہ عزم کیا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالیں گے انہوں نے اور انکی معاشی ٹیم نے ملکر اس عزم کو پورا کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں اور آج ملک معاشی ترقی کے سفر پر رواں دواں ہے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں سعودی عرب’ متحدہ ارب امارات’ چین’ ایران’ ترکیہ اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاری پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں جو حکومت کی بڑی کامیابی ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ملک کی صنعتی’ زرعی اور تجارتی ترقی کا دارومدار سیاسی استحکام سے ہے اگر ملک میں قائم جمہوری نظام سبک خرامی کے ساتھ چل رہا ہو امن امان کی صورتحال مثالی ہو اور صنعت وتجارت کے فروغ کیلئے تمام وسائل دستیاب ہوں تو اس سے تاجروں صنعتکاروں کسانوں سب کو فائدہ پہنچتا ہے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بھی راستے کھل جاتے ہیں گزشتہ ایک دہائی سے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی اور انتقام اور بدلے کی سیاست نے ملک کو سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کے راستے پر ڈال رکھا ہے اسکے علاوہ دہشت گردی کا ناسور بھی ہمارے گلے پڑا ہوا ہے جس کے باعث عدم تحفظ اور غیر یقینی کی فضا کے ملک کی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوئے اور ملک کے اندر سرمایہ کاری کی مثالی فضا استوار نہ ہو سکی اور مہنگائی سمیت دیگر مسائل نے ملک میں ڈیرے ڈال لئے اسی فضاء میں ملک کی سیاسی وعسکری قیادت نے باہم ملکر ملک کی اقتصادی سمت درست کرنے بیڑہ اٹھایا اور قومی اور صوبائی اپیکس کمیٹیاں تشکیل دیکر ان کے ذریعے قومی معیشت کو صحیح خطوط پر اسوار کرنے کے کام کا آغاز کیا اس تناظر میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا جنہوں نے زراعت کی ترقی کی جانب بھی خصوصی توجہ دی چنانچہ ان اقدامات اور پالیسیوں کے نتیجے میں کرنٹ اکائونٹ خسارے میں بھی کمی آنے لگی ملکی معیشت پر دیوالیہ ہونے کی لٹکتی تلوار بھی ہٹنے کے آثار پیدا ہو گئے حکومتی اور عسکری قیادتوں کے اس باہمی اعتماد اور قومی معیشت کے استحکام کیلئے وضع کی گئی پالیسیوں کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ قومی معیشت کے مثبت اشاریوں کی نوید سنا رہے ہیں اسٹیٹ بنک نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کی ششماہی کا کرنٹ اکائونٹ سرپلس ایک اعشاریہ 21 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال کی ششماہی کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ایک اعشاریہ 39ارب ڈالر تھا اسٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024ء کا کرنٹ اکائونٹ سرپلس 580 اعشاریہ 20کروڑ ڈالر رہا جبکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کا تجارتی خسارہ 13فیصد اضافے سے 11اعشاریہ 51 ارب ڈالر رہا دسمبر 2024ء میں برامدات 3 اعشاریہ صفر 5 ارب ڈالر رہا اور درآمدات 4اعشاریہ 77 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں اسی طرح مالی سال کی پہلی ششماہی میں برآمدات 7 فی صد اضافے سے 16اعشاریہ 22ارب ڈالر رہیں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملک معاشی استحکام حاصل کر رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف معاشی طور مستحکم ہو گا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے تمام قرضے ادا کر کے ان سے جان چھڑا لے گا، انشاء اﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں