44

مذاکرات کیلئے سخت موقف نہ اپنایا جائے! (اداریہ)

بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے خلاف عدالتی فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت سمیت بانی پی ٹی آئی اور ان کے رفقاء خاصے پریشان نظر آ رہے ہیں خاص طور پر حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین ہونے والے مذاکرات متاثر ہوئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ مذاکرات میں تعطل پیدا ہو سکتا ہے جو سیاسی استحکام کیلئے فائدہ مند نہیں! بیرسٹر گوہر نے چوتھے رائونڈ کے مذاکرات نہ کرنے بارے سپیکر کو آگاہ کیا دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی اے کے صوبائی صدر پر پارٹی میں عدم اعتماد کی فضاء بنی ہوئی ہے بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو پارٹی کی صوبائی صدارت سے ہٹا دیا ہے جبکہ یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ ان کو وزارت اعلیٰ سے بھی الگ کیا جا سکتا ہے گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے پی نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات بھی کی تاہم ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا کیا مستقبل ہو گا گزشتہ روز بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب بھی سنجیدہ ہے تو وہ ایک بھی مثبت قدم اٹھالے ہم بانی پی ٹی آئی سے بات کر لیں گے دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے موقف کا سخت لہجے میں جواب دیا اور کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے 7روز کی جو ڈیڈلائن مقرر ہوئی تھی اس سے پہلے پی ٹی آئی سے نہ بات ہو گی نہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا ان کے بقول پی ٹی آئی نے اچانک یکطرفہ طور پر مذاکرات ختم کئے ہم دھمکی یا بائیکاٹ کا ایسے جواب نہیں دیں گے اس وقت جو صورتحال سامنے آئی ہے اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ دونوں طرف سخت موقف ہے اور جب تک سنجیدگی اور لچک نہیں دکھائی جائے گی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی اصولی طور پر تو حکومت اور اپوزیشن کو کسی بھی متنازعہ ایشو کو باہم مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنا چاہیے جو جمہوریت کا بنیادی اصول ہے بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی قیادت حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکاری رہی اور اپنے مطالبات پر صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کا عندیہ دیا جاتا رہا اور پھر نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ پر تکیہ کر لیا گیا تاہم جب دونوں جانب سے کسی ریلیف کی توقع نہ رہی تو بانی پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کا ڈول ڈالنے کا اشارہ دے دیا جس پر اضطراب میں ڈوبی قوم کو بھی اطمینان ہو گیا کہ اب ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضاء چھٹ جائے گی پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کیلئے دو نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا جسے حکومتی ٹیم کی جانب سے تحریری طور پر پیش کرنے کا تقاضا کیا گیا تو پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم نے اس سے گریز کا راستہ اختیار کیا اور پھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد مذاکرات کی متعینہ ڈیڈلائن سے تین روز قبل اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا اسی طرح حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بھی پی ٹی آئی کے دو نکاتی مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا جس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوا کہ دونوں فریقین مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کیلئے محض دائو پیچ آزما رہے ہیں اس وقت دونوں فریقین بادی النظر میں تو مذاکرات کے دروازے بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور بیرسٹر گوہر اور عرفان صدیقی کے ایک دوسرے کو جواب الجواب سے مذاکرات کا سلسلہ متاثر ہو رہا ہے،’ سیاسی جماعتوں کے آپس میں رابطے اور مذاکرات جمہوریت کا حسن قرار دیئے جاتے رہے ہیں مگر اس وقت اپوزیشن اور حکومت میں تنائو سے جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکرات جاری رکھے جائیں اور سخت موقف نہ اپنایا جائے اگر دونوں فریقین لچک پیدا کر کے مذاکرات کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں تو کوئی نہ کوئی ایسا راستہ ضرور تلاش کر لیا جائے گا جو دونوں فریقین کیلئے قابل قبول ہو پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کو بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنا چاہیے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہ کیے جائیں اور ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمہ کیلئے حکومت اور اپوزیشن مل جل کر کام کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں