53

پاکستانی معیشت کی مثبت رپورٹیں (اداریہ)

اسٹیٹ بنک کی طرف سے شرح سود میں مزید ایک فی صد کمی کے بعد ہر قسم کی معاشی اور کاروباری سرگرمیوں میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے یہ شرح جتنی بلند ہو گی سرمایہ کاری میں اتنی ہی کمی واقع ہو گی کیونکہ بلند شرح سود پر قرض لیکر کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا گھاٹے کا سودا ہے جبکہ اپنی دولت بنک میں رکھ کر بھاری اور یقینی منافع کمایا جا سکتا ہے حکومت شرح سود میں اس وقت اضافہ کرتی ہے جب اس کے اخراجات آمدنی سے بہت زیادہ ہو جائیں خسارہ پورا کرنے کیلئے وہ زیادہ نوٹ بھی چھاپ سکتی ہے لیکن اسکا نتیجہ افراط زر اور یوں مہنگائی کے بے قابو ہو جانے کی شکل میں نکلتا ہے اس بنا پر حکومت مقامی ذرائع سے قرض لیکر اخراجات پورے کرتی ہے اور نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ شرح سود کی پیشکش کرتی ہے آمدنی اور اخراجات میں توازن ہو تو شرح سود میں کمی ممکن ہوتی ہے یہ شرح جتنی کم ہوتی جائے، تمام معاشی سرگرمیاں اسی کے مطابق بڑھتی جاتی ہیں گورنر اسٹیٹ بنک جمیل احمد کے مطابق ملک میں مجموعی زرمبادلہ ذخائر 16.19 ارب ڈالرز ہیں جو ملکی معیشت کے استحکام کیلئے ایک اچھا اشارہ ہیں افراط زر کچھ ماہ میں بہت تیزی سے کم ہوا ہے مئی 2023ء میں 38فی صد رہا اور گزشتہ ماہ 4.1 فی صد پر آ گیا 6ماہ کا کرنٹ اکائونٹ 1.2 ارب ڈالر سرپلس رہا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکائونٹ خسارے سے دوچار تھا اس کمی سے قرضوں کی سہولت میں بھی اضافہ ہو گا اور عوام کو مالی سہولت فراہم ہو گی،، پاکستانی معیشت کی مثبت رپورٹیں واقعی خوش آئند ہیں ملکی معیشت میں خاطر خواہ بہتری آ رہی ہے جس کا تذکرہ گورنر اسٹیٹ بنک کی طرف سے کیا گیا ہے اس کی تصدیق پاکستان کی معیشت کی ششماہی رپورٹ میں کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ معیشت نے چھ ماہ میں بہتری ظاہر کی ہے جی ڈی پی کی گروتھ 2.5 فی صد ہونے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں معاشی خسارے میں کمی آئی مالی سال کی پہلی ششماہی افراط زر 7.2 فی صد رہا اور اس سے پہلے اس کی طرح 28.8 فی صد تک گئی تھی زرعی سیکٹر میں 6.2 فی صد کی ترقی ہوئی صنعتی شعبہ نے ملے جلے نتائج دیئے ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر میں بتدریج بہتری آ رہی ہے سروسز سیکٹر میں مثبت آثار ہیں جولائی سے دسمبر تک کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ 2بلین ڈالر مثبت رہا ایف ٹی آئی میں 20فی صد کی گروتھ ہوئی زرمبادلہ کے ذخائر میں آئی ایم یف اور عالمی مدد کے باعث اضافہ ہوا ہے روپے کی بڑھتی ہوئی قدرسازگار بیرونی حالات اور واقعات کی عکاس ہے پاکستان کی معیشت میں رونما ہوتی بہتری پر ملک میں ہر سطح پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا پالیسی ریٹ کا 12فی صد پر آنا باعث مسرت ہے اپریل 2022ء میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی تو معیشت ڈوبنے کے چرچے تھے اور ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات سر اٹھا رہے تھے یہ صورتحال ڈیڑھ دو سال تک جاری رہی مگر وزیراعظم کی دن رات کی محنت سے ملک معاشی بھنور سے باہر نکل آیا آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا انہوں نے کئی ممالک کے ساتھ اپنے ذاتی حیثیت اور اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کیا آج معیشت کے استحکام کی طرف جانے کے مضبوط اشارے مل رہے ہیں اور آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معیشت کی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کی کوشش کرے تاکہ ملک کے عوام بھی خوشحال ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں