64

پیکا ایکٹ قانون کیخلاف صحافی برادری کا احتجاج (اداریہ)

صدر مملکت کے دستخط کے بعد پیکا ایکٹ ترمیمی بل قانون بن گیا بل میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا تحفظ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی سہولت کاری کرے گی اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کے آن لائن تحفظ اور حقوق کو یقینی بنائے گی سوشل میڈیا تحفظ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان سے قابل رسائی غیرقانونی اور اشتعال انگیز مواد کو ریگولیٹ کرے گی اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کرے گی اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن’ منسوخی یا معطل کرنے کی بھی مجاز ہو گی اتھارٹی ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمرز کو جزوی اور مکمل بلاک کرے گی اتھارٹی کسی درخواست پر ایکشن لے گی خلاف ورزی پر جرمانہ کرے گی اتھارٹی متعلقہ حکام کو غیر قانونی اور توہین آمیز مواد کو 30روز کے لیے بلاک کرنے یا ہٹانے کی ہدایت کرے گی 30دن مزید توسیع ہو سکے گی، پیکا ایکٹ کی منظوری کے بعد ملک بھر میں صحافی برادری سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے صحافتی تنظیموں نے اس قانون کو مسترد کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار کی آواز دبانے کی حکومتی کوشش قرار دیا ہے ملک بھر کے مختلف شہروں میں صحافیوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور پیکاایکٹ کے خلاف مظاہرے کئے فیصل آباد پریس کلب کے زیراہتمام تمام صحافتی تنظیموں نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی مظاہرے میں ویمن جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے بھی شرکت کی،، صدر مملکت کے دستخط کے بعد پیکاایکٹ اب قانون بن چکا ہے،، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہو گا جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کئے جائیں گے ترمیمی بل کے مطابق اتھارٹی کل 9اراکین پر مشتمل ہو گی سیکرٹری داخلہ چیئرمین پی ٹی اے چیئرمین پیمرا ایکس آفیشو اراکین ہوں گے بیچلز ڈگری رکھنے والا اور متعلقہ فیلڈ میں کم ازکم 15سالہ تجربہ رکھنے والا شخص اتھارٹی کا چیئرمین ہو گا چیئرمین اور 5اراکین کی تعیناتی 5سال کے لیے ہو گی اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے متاثرہ شخص عدالت سے رجوع کر سکے گا،’ اسلام آباد پریس کلب’ لاہور پریس کلب اور دیگر شہروں میں بھی صحافیوں نے پیکا ایکٹ بل کی منظوری کے خلاف نعرے بازی کی صحافیوں کا احتجاج جاری ہے، ان کا کہنا ہے کہ حکومت طاقت کے زور پر صحافیوں کو دبانا چاہتی ہے پیکا ایکٹ کی منظوری اور قانون بن جانے کے بعد صحافی برادری حکومت سے نالاں ہے سخت ردّعمل کا اظہار کر رہی ہے پیکا ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے درخواست میں الیکشن کمیشن پی ٹی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،، حکومت نے ایوان زیریں اور ایوان بالا سے پیکاایکٹ ترمیمی منظور کرا کے صدر مملکت کو دستخط کے لیے بھجوایا تھا جس پر صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ قانون بن گیا ہے لہٰذا اب اس قانون میں صرف قومی اسمبلی ہی ترمیم کر سکتی ہے صحافیوں کا یہ کہنا ہے کہ موجودہ حکومت پریس کو دبائو میں لانا چاہتی ہے جبکہ اگر ماضی کی طرف نظر دوڑائی جائے تو پیکا ایکٹ سب سے پہلے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں منظور اور نافذ ہوا اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے اس قانون کو وقت کی ضرورت قرار دیا جاتا رہا رہا مگر آج جب موجودہ حکومت نے اس قانون کو نافذ کرنے کا پروگرام بنایا ہے تو اپوزیشن اسکی مخالفت میں صحافیوں کو اشتعال دلا رہی ہے تاہم ہمارے خیال میں آزادی اظہار رائے ضرور ہونا چاہیے مگر اس کے لیے کچھ اصول وضوابط مقرر کرنا کچھ برائی نہیں! دراصل کسی بھی حکمران کو صحافت اور اظہار رائے کی آزادی سوٹ نہیں کرتی کیونکہ ان کو آئینے میں اپنا چہرہ نظر آتا ہے اور ہر حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اپنے اپوزیشن کے دور میں ایسے قوانین ان کے لیے حکومت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بہترین ہتھیار بن جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بہت سوچ بچار سے کام لے کیونکہ میڈیا کے ساتھ ٹکرائو اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتا حکومت کو سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کرنا پڑے گا جتنی دیر ہو گی اتنی ہی مشکلات بڑھیں گی ریاست کے دونوں ستونوں کو ٹکرائو سے بچنے کے راستے پر چلنے کیلئے سنجیدگی اختیار کر کے اس کا حل نکالنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں