57

نئی دہلی کو جدید امریکی ہتھیاروں کی فراہمی باعث تشویش (اداریہ)

جارحانہ جنگی عزائم رکھنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ کے پہلے سرکاری دورے میں جوہری توانائی’ لڑاکا طیارے اور اربوں ڈالرز کے فوجی معاہدے کر لئے’ تجارت 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کا اعلان’ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان دینے کا اعلان کرد یا، امریکہ پاکستانی شہری انڈیا کو دے گا تہوار راناپر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، ملاقات میں امریکی صدر نے بھارت کو تیل اور گیس فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا، ٹرمپ نے اعلان کیا کہ بھارت کے ساتھ ویسا ہی ٹیرف ہو گا جیسا کہ وہ امریکہ پر عائد کرتا ہے دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر بھارت کی طرف سے مبارکباد دی اور کہا کہ خوشی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے، بھارتی وزیراعظم نے امریکی یونیورسٹیوں کو بھارت میں کیمپس کھولنے اور امریکی صدر کو بھارت کے دورہ کی دعوت دی، نریندر مودی نے امریکہ سے دفاعی بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا، ادھر پاکستان نے ٹرمپ مودی ملاقات کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان سے متعلق حوالے کو یکطرفہ گمران کن’ حیران کن اور سفارتی قدار کے منافی قرار دے دیا اور نئی دہلی کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی باعث تشویش قرار دے دی، ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ بھارت کو جدید ہتھیاروں کے فروخت سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑے کا اندیشہ ہے یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے حصول میں بھی مددگار نہیں ہو گا پاکستان کو جدید ٹیکنالوجیز کی بھارت منتقلی پر شدید تحفظات ہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کے تعاون کے باوجود مشترکہ اعلامیے میں ایسا حوالہ آ جانا حیران کن ہے، کسی مشترکہ بیان میں ایسے حوالے کو شامل کرا کر بھارت کی جانب سے دہشتگردی کی سرپرستی محفوظ پناہ گاہوں اور اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا انڈو یو ایس مشترکہ بیان کو بے بنیاد’ غلط اور اقدار کے خلاف قرار دیتے ہیں مشترکہ بیان میں بھارت عوامی حقوق کی پامالی کا جواب دینے میں ناکام رہا، دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے طور پر پاکستان دنیا میں امن واستحکام کے فروغ کا خواہاں ہے، فلسطینیوں کے لیے سعودی عرب میں فلسطینی ریاست کے قیام کے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے فلسطنیوں کو سعودی عرب بھیجنے کے بیان کو بھی یکسر مسترد کرتا ہے،، موجودہ عالمی منظر اس وقت عجیب وغریب صورتحال پیش کر رہا ہے ایک جانب اسرائیل فلسطینی عوام پر زمین تنگ کر رہا ہے جبکہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پٹی کو امریکہ کے قبضہ میں لینے کا عندیہ دیا ہے امریکہ اور برطانیہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں اسرائیل کو جدید ہتھیار فراہم کئے جا رہے ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں اب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو امریکہ کی جانب سے جدید جنگی سازوسامان کی فراہمی کا امریکہ کے صدر نے اعلان کر دیا ہے جس سے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے بھارت پہلے ہی جنگی جنون میں مبتلا ہے اور دفاعی سازوسامان پر بھاری اخراجات کر رہا ہے جبکہ اس کے عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں مگر بھارت کے حکمران اپنے عوام کی خوشحالی اور انہیں غربت سے نکلنے کے بجائے دفاعی سازوسامان حاصل کر کے جنگ کے جنون میں مبتلا ہے پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور امریکہ کی جانب سے بھارت کو جدید ترین جنگی سازوسامان کی فراہمی پر پاکستان کو سخت تشویش ہے امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو بھول گیا ہے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا مگر امریکہ پاکستان کے ازلی دشمن کو دفاعی طور پر مضبوط بنا کر جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو خراب کرنے پر تلا ہوا ہے جس پر پاکستان کو یقینا تشویش ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا جھکائو بھارت کی جانب کرنے کی بجائے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو بھی مدنظر رکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں