76

بنگلہ دیش سے براہ راست تجارت بحال (اداریہ)

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست تجارت بحال ہو گئی، سرکاری سطح پر پہلا کارگو پوسٹ قاسم سے روانہ ہو گیا پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست تجارت اور سرکاری سطح پر تجارتی روابط کی بحالی سقوط ڈھاکہ کے بعد پہلی بار بحال ہوئی ہے بنگلہ دیش پاکستان کے سرکاری ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے مجموعی طور پر 50ہزار ٹن اری خریدے گا جس کا معاہدہ فروری کے پہلے ہفتے میں کیا گیا اس آرڈر کی تکمیل دو حصوں میں کی جائے گی اور پچیس ہزار ٹن کی اگلی شپمینٹ بھی مارچ کے اوائل میں روانہ کی جائے گی اس شپمنٹ کے ساتھ دونوں ملکوں کے مابین معاشی روابط اور براہ راست شپنگ بھی بحال ہو گی پی این ایس کا مال بردار جہاز سرکاری کارگو لیکر پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہو گا، سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی روابط بحال ہونا خوش آئند ہے دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے قریب آنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ دونوں پہلے ایک تھے اور مل جل کر رہتے تھے مگر شیطان صفت بھارتی حکمرانوں نے دونوں کے درمیان دوریاں پیدا کر دیں اور بدقسمتی سے دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے بھارت نے بنگلہ دیش میں اپنا اثرورسوخ بڑھایا اور اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کئے بنگلہ دیش میں ایک انقلاب کے ذریعے بھارت نواز حکومت کا خاتمہ ہوا اور وہاں پر موجودہ حکومت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا آغاز کیا دونوں ملکوں کے وفود نے دورے کئے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی بڑھانے کے ساتھ ساتھ روابط بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا پاکستان سے بنگلہ دیش سے براہ راست تجارت بحال ہو گئی پہلا کارگو پورٹ قاسم سے بنگلہ دیش کے لیے روانہ ہو گیا دوسرا کارگو آئندہ ماہ کے اوائل میں بنگلہ دیش کے لیے تجارتی سامان لیکر جائے گا جو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے موجودہ حکومت برآمدات اور دوست ممالک سے دوطرفہ تعلقات کو بہت زیادہ ترجیح دے رہی ہے پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے بھی تجارت’ سرمایہ کاری اور توانائی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے اماراتی ہم منصب شیخ عبداﷲ بن زاید النہان سے ابوظہبی میں ملاقات کی ہے جس میں دونوں راہنمائوں نے اعلیٰ سطحی بات چیت اور مشاورت کے عمل کو باقاعدگی سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی وعالمی معاملات پر دوطرفہ تعلقات اور کوآرڈینیشن کے عمل کو مضبوط کیا جائے ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اور اماراتی وزیرخارجہ نے تجارت’ سرمایہ کاری’ توانائی’ دفاع اور عوام کے درمیان روابط سمیت دیگر شعبوں میں دوطرفہ شراکت داری کے فروغ کیلئے نئے مواقعوں پر بات چیت کی دونوں ممالک نے حالیہ چند سالوں میں معاشی تعلقات کے فروغ کیلئے کوششیں تیز کی ہیں جنوری 2024ء میں پاکستان اور عرب امارات نے 3ارب ڈالر کی مالیت سے زیادہ کے معاہدوں پر دستخط کئے جو خوش آئند ہے عرب امارات مزید سرمایہ کاری کا بھی ارادہ رکھتا ہے جو پاکستان میں معیشت کی مضبوطی کیلئے بہت اہم اقدام ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں کی بدولت ملک میں معیشت کو سنبھالا مل رہا ہے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی روابط بحال ہونے کے بعد معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے امید ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کی تجارت روز بروز بڑھتی جائے گی اور دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط تر ہوتے جائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملک رنجشیں’ غلط فہمیوں کو نظرانداز کر کے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے بڑھائین تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کو عروج پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ تعلقات کو بھی مزید مضبوط تر بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں