67

گندم مافیا سے حکومت کو ہوشیار رہنا ہو گا (اداریہ)

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اور اس مرتبہ بارشوں کے وقت پر نہ ہونے سے گندم کی فصل پر اثرات مرتب ہوئے ہیں اور پانی کی کمی کے باعث گندم کی فصل کی پیداوار میں کمی کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اس حوالے سے حکومت کو بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ گندم مافیا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملک میںگندم کی ذخیرہ اندوزی کر کے قلت پیدا کر کے اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے پاکستان کو 2025ء میں گندم کے شدید بحرانوں کا سامنا ہے جس کی وجہ مختلف عوامل ہیں ملک کا زرعی شعبہ جو کہ معیشت کی جی ڈی پی کا 22,7 فی صد سے گندم کی پیداوار میں کمی کا سامنا کر رہا ہے جو 2021 میں 27,467 ٹن سے 2022 میں 26,394 ٹن تک پہنچ گئی اس سال یہ مشکلات مزید بڑھیں حکومت کو قبل ازوقت مافیا کو کنٹرول کرنے اور غریب عوام کو سستے آٹے کی آسان فراہمی پر کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ مافیا غریبوں کا تو بھرکس نکالے گی ہی حکومت کیلئے باعث شرمندگی بھی ہو گی 2022 کے سیلاب نے زراعت کے شعبے پر منفی اثر ڈالا جس کے نتیجہ میں گندم کی پیدوار میں کمی واقع ہوئی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے صارفین کی قوت خرید کو کم کر دیا جس سے کسانوں کے لیے کھادوں اور بیجوں جسے سامان کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے جاری روس اور یوکرائن تنازعہ نے گندم کی عالمی سپلائی میں خلل ڈالا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ملک میں گندم کی پیداوار میں کمی کے خدشہ نے ایک بار آٹے کی قلت پیدا ہونے کا خوف پیدا کر دیا ہے گندم کے بحران سے ملک کی معیشت اور غذائی تحفظ پر اثرات مرتب ہوں گے حکومت کا مالی سال 2025 جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فی صد کاہدف تیزی سے ناقابل حصول دکھائی دیتا ہے اور ملک کو خوراک کی مہنگائی اور اس کے نتیجے میں اجرت کے دبائو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو سستی قیمتوں پر گندم کی دستیابی کو یقینی بنائے زرعی پیداوار کو بہتر بنائے اور کسانوں کو مدد فراہم کرے پاکستان کو پانی کے انتظام اور بیجوں کے شدید بحران کا سامنا ہے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ملک کی غذائی تحفظ کو متاثر کرتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی پانی کی کمی کو بڑھا رہی ہے زرعی بیجوں کی دستیابی اور معیار اہم خدشات ہیں جو فصل کی پیداوار اور خوراک کی حفاظت کو متاثر کرتے ہیں گندم کی فصل تیار ہونے سے قبل ہی مافیا سرگرم ہو جاتا ہے اور فصل کے حصول کیلئے مختلف طریقے استعمال کرتا ہے گندم ذخیرہ کی جاتی ہے اور اسے اسمگل کر کے مافیا اپنی تجوریاں بھر لیتا ہے جبکہ کسان بدحال عوام پریشان ہو جاتی ہے حکومت عوام کو تسلیاں دیتی ہے سرکاری گوداموں میں ذخیرہ شدہ گندم بھی خوردبرد کر لی جاتی ہے ذمہ داروں کا تعین ہونے کے باوجود کرپٹ افسران واہلکاران کو سزا نہیں ملتی ماضی میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں تاہم حکومت کو اس مرتبہ وقت سے قبل گندم کے حوالے سے فول پروف انتظامات بنانا ہوں گے ورنہ مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں