56

فرسودہ نظام کی تبدیلی ناگزیر (اداریہ)

پاکستان زرعی ملک’ معدنیات سے مالامال’ چار موسم’ بہترین نہری نظام’ مگر اﷲ کی دی ہوئی کروڑوں نعمتوں کے باوجود ہمارے ہاں فرسودہ نظام نے ایسی تفریق پیدا کر رکھی ہے کہ ہم اﷲ کی دی گئی نعمتوں سے یکساں فائدہ حاصل کرنے مین ناکام ہیں بااثر افراد اپنے سے کمتر لوگوں پر حاوی ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے پاکستان کی نصف آبادی عاجزی کی زندگی گزار رہی ہے عاجز زندگی دراصل فاقہ کشی ہوتی ہے ملک میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اشرافیہ کو جو سہولیات اور مراعات حاصل ہیں اس کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے یو این ڈویلپمنٹ پروگرام کے وفد نے دورہ پاکستان کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان میں اشرافیہ پر سالانہ 17اعشاریہ چار ارب ڈالر بے جا خرچ کرتے ہیں بہت سے سرکاری بڑوں کی ٹرانسپورٹ’ رہائش’ بجلی وفون’ پانی’ فضائی اور ریلوے کا سفر فری ہے پھر لاکھوں میں تنخواہیں بھی ہیں اس کے برعکس عام آلودگی کو مراعات تو درکنار جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے اتنی رقم بھی نہیں ملتی کہ وہ باآسانی گزارہ کر سکے پندرہ سے بیس سال قبل پاکستان میں بھوک شائد نہ ہونے کے برابر تھی مگر اب تو غربت اور بھوک نے اس مک میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ حکومتوں کی نااہلی’ کرپشن’ میرٹ کا قتل بڑے آبی ذخائر تعمیر نہ کرنا ہے اس وقت یہ صورتحال ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھوک وفاقہ کشی میں زبردست اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ہر سیاسی جماعت انتخابات میں عوام کا ہمدرد ہونے اور انہیں ریلیف دینے کی دعویدار ہوتی ہے مگر اقتدار میں آ کر سب وعدے بھول جاتی ہے اور ان کی ترجیحات’ سرمایہ دار’ جاگیردار صنعتکاروں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے کئی کئی سال بلدیاتی انتخابات نہ کرانے اور غیر موثر نظام حکومت نے عوام کی مشکلات زبردست اضافہ کیا ہے دنیا بھر میں تمام بنیادی مسائل بلدیاتی نظام کے تحت حل کئے جاتے ہیں سیاسی جماعتیں بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات ووسائل دینے سے گریزاں رہتی ہیں اسی لئے پاکستان کے تمام صوبوں میں غیر موثر بلدیاتی نظام ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلسل مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کے ذریعے منظم اور موثر کنٹرول سے پرائس کنٹرول کیا جاتا ہے ہمارے ہاں پرائس کنٹرول کا ملک بھر میں کوئی نظام ہی موجود نہیں اور جس کی مرضی چاہے، جس قیمت پر چیزوں کی فروخت شروع کر دے ہر چیز کی قیمت کو رمضان میں پر لگ جاتے ہیں ناجائز منافع خوروں کو کوئی لگام دینے والا نہیں حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں نظام کے تشکیل میں بھی ناکام ہے یہاں سرکاری افسران مارکیٹوں میں سرپرستی کر کے مہنگائی کراتے ہیں جب سرکاری افسر چھاپہ مارنے جاتے ہیں تو پہلے سے اطلاع پہنچ جاتی ہے پیمانوں کو ٹھیک کر دیا جاتا ہے افسر کے جانے کے بعد پھر وہی کام شروع کر دیا جاتا ہے پرائس کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے وفاق وتمام صوبائی حکومتوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے حکومت کی جانب سے بار بار معیشت کی مضبوطی کے دعوے کئے جاتے ہیں ساتھ یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ مہنگائی کم ہو چکی ہے مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے فرسودہ نظام کی تبدیلی تک بہتری ممکن نہیں! عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے حکمران اپنی تنخواہوں مین اضافہ کرنے کیلئے ایک ہو گئے ہیں مگر عوام کی زندگی بہتر بنانے کیلئے ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں موجودہ حکومت کو فرسودہ نظام تبدیل کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں معیشت کی مضبوطی کے لیے جہاں سیاسی استحکام ضروری ہیں وہیں دیگر اقدامات بھی ناگزیر ہیں غریب عوام بھی اس ملک میں رہتے ہیں ان کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا معیشت کی مضبوطی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے سیاسی استحکام اولین ترجیح ہونی چاہیے حکومت اور اپوزیشن کو ملکر ملک کی ترقی واستحکام کیلئے کام کرنا ہو گا عام آدمی کی خوشحالی کیلئے موثر اقدامات وقت کا تقاضا ہیں اگر ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارے گی تو یہ نہ صرف ان کے ساتھ ناانصافی ہو گی بلکہ حکومتی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہو گا، بہتر یہ ہی ہے کہ حکمران ملک میں کئی دہائیوں سے چلنے والے فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں